Skip to playerSkip to main content
  • 7 months ago
Tafheem-ul-Quran تفہيم القرآن, “Towards Understanding the Qur’an”) is a renowned 6-volume translation and commentary of the Holy Qur’an authored by Maulana Syed Abul A‘la Maududi (1903–1979). Written between 1942 and 1972, it stands as one of the most influential modern works of Qur’anic exegesis.
Maulana Maududi combined classical scholarship with contemporary analysis, addressing themes of faith, morality, economics, politics, sociology, and history. His Tafseer explains Qur’anic verses with references to the Sunnah of Prophet Muhammad ﷺ, as well as the historical background of revelation.

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30اس میں جو سبق ہے ہمارے لئے ان کو سمجھا جائے
00:32بلکل اور یہ قرآن مجید میں ایک اہم موڑ بھی ہے
00:36یعنی پہلے چار رکوع میں تو اللہ تعالیٰ تمام انسانوں سے مخاطب تھے
00:40ہاں عام خطاب تھا
00:41جی لیکن یہاں سے پانچوے رکوع سے لے کر چودوے تک
00:45ایک طویل گفتگو خاص طور پر بنی اسرائیل سے ہو رہی ہے
00:49اچھا خاصا طویل حصہ ہے
00:50جی حالانکہ بیچ میں ظاہر ہے دوسرے گروہوں کا ذکر بھی آتا ہے زمنن
00:54تو تفہیم القرآن اس تبدیلی کی کیا وجہ بتاتی ہے
00:57مطلب عام دعوت کے بعد اچانک خاص قوم پر اتنی لمبی گفتگو
01:03جی تفہیم اس پر کافی تفصیل سے بات کرتی ہے
01:06اس کے پیچھے کئی مقاصد تھے
01:08پہلا اور سب سے بنیادی مقصد تو تھا دعوت
01:11دعوت
01:12کس کو
01:13یعنی جو پچھلے انبیاء کے پیروکار تھے خاص طور پر یہودی
01:18ان میں جو لوگ نیک تھے یا حق بات قبول کرنے والے تھے
01:22انہیں اسلام کی دعوت دینا
01:24اچھا
01:25انہیں یہ بتانا کہ بھئی یہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم
01:29کوئی بالکل نئی اور اجنبی چیز نہیں لائے
01:32یہ تو وہی پیغام ہے جو تمہارے اپنے انبیاء لائے تھے
01:36اسی سلسلے کی کڑی ہے
01:37یعنی انہیں جوڑنے کی کوشش
01:39بلکل
01:40اور ساتھ میں یہ احساس دلانا بھی کہ دیکھیں
01:42آپ کو جو ذمہ داری دی گئی تھی دنیا کی رہنمائی کی
01:45ہاں وہ جو منصب تھا
01:46جی وہ آپ ٹھیک سیدا نہیں کر پائے
01:49ناکام رہے
01:50اب وہی کام ایک نئی امت کر رہی ہے
01:52تو آپ بھی آ کر شامل ہو جائیں
01:54یعنی ایک طرح سے موقع دیا جارہا تھا دوبارہ
01:56جی ایک موقع تھا
01:58کہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام شاید دوبارہ حاصل کر لیں
02:01یہ تو ہوئی دعوت
02:02اچھا تفہیم کوئی اور مقاصد بھی بتاتی ہے اس کے
02:05جی ہاں
02:06دوسرا بڑا مقصد تھا اتمام حجت
02:09اتمام حجت
02:10یعنی
02:11یعنی بلیل پوری کر دینا
02:12ان پر واضح کر دینا کہ اب تمہارے پاس انکار کا کوئی بہانہ نہیں بچا
02:17وہ کیسے
02:17اس کے لئے قرآن نے نا ان کی اس وقت کی جو دینی حالت تھی
02:21اخلاقی حالت تھی
02:22قوم کی حالت تھی
02:24سب کھول کر بیان کر دیا
02:26اچھا
02:26اور یہ ثابت کیا
02:28کہ بھئے قرآن جو بنیادی باتیں کہہ رہا ہے
02:30توحید
02:31رسالت
02:32آخرت
02:33اخلاق
02:33یہ وہی ہے جو تمہاری اپنی کتاب توریت میں
02:36کچھ الگ تو نہیں ہے
02:37اور ان کی تاریخ کبھی حوالہ دیا ہوگا
02:40یقینا
02:40یقینا
02:41ان کی تاریخ سے مثالیں دے دے کر بتایا کہ دیکھو تم نے بار بار ہدایت سے مو موڑا
02:45انبیاء کی باتیں نہیں مانی
02:47دنیا کی رہنمائی کا جو کام تھا وہ تم سے نہیں ہو پایا
02:51اور تفہیم یہ بھی بتاتی ہے کہ قرآن نے صرف ماضی کی غلطیاں نہیں گنوائیں
02:55بلکہ اس وقت جو وہ مخالفت کر رہے تھے نا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
02:59ہاں جو مدینہ میں ہو رہا تھا
03:00جی
03:00اس مخالفت کی اصل وجہ بھی کھول دی
03:03اچھا کیا وجہ تھی وہ
03:04قرآن نے واضح کیا کہ یہ مخالفت کسی علمی بنیاد پر نہیں ہے
03:09یہ نہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا
03:11تو پھر
03:12بلکہ اس کے پیچھے تھی زد
03:14ہڈ دھرمی
03:15حسد
03:16اپنی قوم پر جھوٹا فخر
03:18اور دنیاوی فائدوں کا لالچ
03:20وہ حق کو پہچان تو گئے تھے
03:23لیکن مان نہیں رہے تھے
03:25صرف اس لیے کہ نبی ان کی قوم سے نہیں تھے
03:28اچھا
03:28تو وہ کیا کرتے تھے
03:30سازشیں
03:30لوگوں میں وسوسیں ڈالنا
03:32الٹے سیدھے سوال پوچھنا
03:34الزامات لگانا
03:35پس کسی طرح لوگ اسلام سے دور رہیں
03:38تفہیم کہتی ہے
03:39کہ جب قرآن نے یہ سب کھولا
03:41تو اس کا اثر ہوا
03:43خود یہودیوں میں جو مخلص لوگ تھے
03:45ان کو سمجھ آئی
03:47اچھا
03:47جی
03:47اور مدینے کے عام لوگوں پر
03:49جو ان علماء کا ایک روب تھا نا
03:52وہ کم ہونے لگا
03:53ان کی مخالفت کی ہوا نکلنے لگی
03:55یعنی ان کی اصلیت کھل گئی
03:57اچھا تو یہ دو مقصد ہو گئے
03:58دعوت اور اطمام حجت
04:00کوئی اور بھی
04:01جی
04:01تیسرا مقصد تھا
04:03ایک مثال پیش کرنا
04:04مثال
04:04کس چیز کی
04:05بنی اسرائیل کی تاریخ
04:07تقریباً
04:08چار ہزار سال پر پھیلی ہوئی ہے
04:10یہ ایک مکمل
04:11کیس سٹڈی ہے
04:12اس میں صاف نظر آتا ہے
04:14کہ جب کوئی قوم
04:15اللہ کی نعمتوں کی قدر کرتی ہے
04:18ہدایت پر چلتی ہے
04:19تو کیسے اوپر جاتی ہے
04:25ان کے اروج و زوال میں
04:27آنے والی سب قوموں کے لیے
04:29سبق ہے
04:30عبرت ہے
04:31باقی
04:31تاریخ سے بڑا سبق تو کوئی نہیں
04:33اچھا
04:34اور چوتھا مقصد
04:36جو شاید ہمارے لیے
04:37یعنی امت محمدی کے لیے
04:39سب سے زیادہ اہم ہو
04:40بلکل
04:41چوتھا مقصد تھا
04:43امت محمدی کی تعلیم و تربیت
04:45وہ کیسے
04:46دیکھیں
04:47پشلی امت
04:48یعنی بنی اسرائیل
04:49کا انجام کیا ہوا
04:50وہ کیوں زوال پذیر ہوئے
04:52یہ سب تفصیل سے بتایا گیا
04:54کیوں
04:55تاکہ مسلمان وہ غلطیاں نہ کرے
04:57بلکل
04:58تاکہ مسلمان ان سے سبق سیکھیں
05:00اور بچیں
05:00قرآن نے بتایا
05:02کہ ان میں کیا اخلاقی کمزوریاں آ گئی تھی
05:04مذہب کو کیسے غلط سمجھ بیٹھے تھے
05:07کیسے اللہ کے قانون توڑتے تھے
05:09دین میں کیسے غلوف کرتے تھے
05:11یا کمی کرتے تھے
05:12یہ سب اس لیے بتایا
05:14تاکہ مسلمان سمجھیں
05:15کہ دین حق اصل میں کیا چاہتا ہے
05:18اور وہ گمراہی سے بچیں
05:20یہ تو بہت اہم ہے
05:21جی
05:22اور تفہیم القرآن یہاں وہ مشہور حدیث بھی نکل کرتی ہے
05:25جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا
05:28کہ تم لوگ بھی پچھلی امتوں
05:30یہود و نصارہ کے پیچھے چلو گے
05:32قدم بقدم
05:34ہاں ہاں وہ حدیث تو بہت مشہور ہے
05:36جی
05:37یہاں تک کہ اگر وہ کسی گو کے بل میں گھوسیں گے
05:40تو تم بھی گھوسو گے
05:41یہ بہت سخت ورننگ ہے
05:44کہ تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے
05:46واقعی یہ پسے منظر سمجھنا تو بہت
05:48بہت ضروری تھا
05:49اب آتے ہیں خود آیات کی طرف
05:51رکو شروع ہوتا ہے آیت فوٹی سے
05:54اے بنی اسرائیل
05:55میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم کو
05:58عطا کی تھی اور میرے اہد کو
06:00پورا کرو تاکہ میں تمہارے
06:02اہد کو پورا کروں اور
06:04مجھ ہی سے ڈرو
06:05یہاں کون سی خاص نعمتیں اور کون سا
06:08اہد مراد ہے
06:09دیکھیں نعمت سے مراد تو وہ ساری
06:12مہربانیاں ہیں جو اللہ نے ان پر کی
06:14خاص خاص
06:15فیرون سے نجات دلائی
06:17سہرہ میں من و سلوہ اتارا
06:20انہیں شریعت دی تورات
06:21حکمت دی
06:23ان میں کتنے سارے نبی بھیجیں
06:25ایک زمانے تک انہیں دنیا کی قوموں پر
06:28فضیلت بھی دی
06:29یہ کوئی معمولی باتیں نہیں تھی
06:31نہیں بلکل نہیں
06:32اور اہد سے کیا مراد ہے
06:35اہد وہ وعدہ ہے جو اللہ نے ان سے لیا تھا
06:39کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں گے
06:41اس کے حکم مانیں گے
06:43اس کا دین قائم کریں گے
06:45اور اس کا پیغام دنیا کو پہچائیں گے
06:47اور اس کے بدلے میں
06:49اللہ کا وعدہ تھا
06:51کہ وہ دنیا میں ان کا حامی و ناصر ہوگا
06:53اور آخرت میں بہترین عجر دے گا
06:56تو پہلے نعمت یاد دلائی
06:57پھر کہا کہ اپنا وعدہ پورا کرو
07:00تو میں اپنا وعدہ پورا کروں گا
07:02اور پھر اگلی ہی آیت
07:03آیت 41 میں ایک بڑا واضح ہے
07:05اور ایمان لاؤ اس کتاب قرآن پر
07:09جو میں نے نازل کی ہے
07:11یہ اس کتاب کی تزدیق کرنے والی ہے
07:14جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے
07:16پس تم ہی سب سے پہلے
07:18اس کے منکر نہ بن جاؤ
07:20اور میری آیات کو تھوڑی قیمت پر نہ بیچ ڈالو
07:23اور میرے غزب سے بچو
07:24اس میں کئی باتیں ہیں
07:26ایک تو یہ کہ قرآن کو
07:28ان کی اپنی کتاب کی تزدیق کرنے والا کہا گیا
07:30جی یہ بہت بہت اہم نکتہ ہے
07:32قرآن انہیں کہہ رہا ہے
07:34کہ بھئی میں کوئی باہر کی چیز نہیں لیا
07:36تھا ہے نا
07:38ہاں کیونکہ وہ تو پہلے سے جانتے تھے
07:41اہلِ کتاب تھے
07:42بلکل انہیں تو آخری نبی کی پیشن گوئیوں
07:45کا بھی علم تھا
07:46لیکن ہو کیا رہا تھا
07:48کہ وہی سب سے پہلے انکار کرنے والوں میں
07:51شامل ہو رہے تھے
07:52اور یہ جو ہے کہ
07:53میری آیات کو تھوڑی قیمت پر نہ بیچ ڈالو
07:57تفہیم اس کی کیا وضاحت کرتی ہے
07:59کیا یہ صرف پیسوں کی بات ہے
08:01رشوت وغیرہ
08:04سامنے قلیل یعنی تھوڑی قیمت
08:07اس سے مراد صرف پیسے
08:09یا رشوت نہیں ہے
08:10بلکہ ہر وہ دنیاوی فائدہ
08:13ہر وہ چیز جس کی خاطر
08:15انسان اللہ کے حکم کو
08:17اس کی ہدایت کو
08:18یا تو رد کر دے
08:20یا اس میں تبدیلی کر دے
08:21وہ تھوڑی قیمت ہے
08:23اچھا مثلا
08:25وہ مالدولت بھی ہو سکتا ہے
08:27کوئی عہدہ کوئی لیڈرشپ
08:29کوئی چودراہٹ
08:30اپنی قوم یا نسل کا جھوٹا فخر
08:33یا صرف اپنی نفسانی خواہش پوری کرنا
08:36مدودی صاحب یہاں یہ نکتہ اٹھاتے ہیں
08:40کہ اللہ کی آیتیں
08:41اس کی ہدایت
08:43اتنی قیمتی ہیں
08:44اتنی عظیم ہیں
08:45کہ ان کے بدلے میں
08:47اگر پوری دنیا کی دولت بھی مل جائے نا
08:49تو وہ بھی تھوڑی قیمت ہی ہے
08:51واہ
08:51یعنی اصل مسئلہ
08:53حق کو دنیا کے فائدے پر قربان کرنا ہے
08:56بلکل
08:57حق کی بے قدری
08:58اصل جرم یہ ہے
09:00یہ تو بہت گہری بات ہے
09:01اچھا اس کے فوراں بعد آیت بیالیس آ جاتی ہے
09:04اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاو
09:07اور نہ جانبوچ کر حق کو چھپاؤ
09:09اس کا کیا پسمنظر تھا
09:11یہ کیسے ہو رہا تھا
09:12اس کو سمجھنے کے لیے نا
09:13ہمیں اس وقت کے مدینے کے حالات دیکھنے ہوں گے
09:16جو عرب قبیلے تھے
09:17عوس اور خزرج
09:19وہ زیادہ تر پڑھے لکھے نہیں تھے
09:21ہاں ان پڑھ تھے
09:22جی
09:22جبکہ جو یہودی قبیلے تھے
09:24وہ تعلیمیافتہ سمجھے جاتے تھے
09:25ان کے پاس کتاب تھی
09:27ان کے عالموں کا ایک روب تھا
09:29تو جب نبی اکرام صلی اللہ علیہ وسلم
09:32مدینہ آئے
09:32اور اسلام کی دعوت دی
09:34تو بہت سے عرب
09:36جو یہودیوں کے پڑوسی تھے
09:37اور ان سے متاثر بھی تھے
09:39وہ قدرتی طور پر
09:40ان کے عالموں سے پوچھتے تھے
09:42کہ بھئی آپ بتائیں
09:43آپ تو کتاب والے ہیں
09:44یہ نیا دین کیسا ہے
09:45بلکل
09:46اب یہودی عالم بڑے پھنس گئے
09:49کیسے
09:49وہ کھل کر
09:54غلط آخرت ان کو غلط تو کہنے ہی سکتے تھے
09:57کیونکہ وہ تو ان کی اپنی کتابوں میں بھی تھی
09:59ہاں یہ تو مسئلہ تھا
10:00لیکن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کو بھی تیار نہیں تھے
10:05خاص طور پر اپنی قوم پرستی اور حسد کی وجہ سے
10:09تو انہوں نے گیا کیا
10:10تفہین کے مطابق انہوں نے ایک منافقانہ طریقہ اپنایا
10:15نہ صاف ہاں کرتے تھے نہ صاف نہ
10:18اچھا
10:19بلکہ جو پوچھنے آتا تھا اس کے ذہن میں شکوک ڈالتے
10:24سوال کرتے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر
10:27یا صحابہ پر کوئی الزام لگا دیا
10:29یا تورات کی آیتوں کو غلط مطلب پہنا کر پیش کر دیا
10:33تاکہ لوگ کنفیوز ہو جائیں
10:35جی تاکہ لوگ الٹھیں جائیں اور اسلام سے بدگمان ہو کر دور ہٹ جائیں
10:40یہی تھا حق کو باطل سے ملانا
10:42یعنی سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ کرنا
10:44اور جانبوچ کر حق کو چھپانا
10:47یعنی وہ باتیں نہ بتانا
10:48جن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی ثابت ہوتی تھی
10:52آیت 42 اسی کام کی مزمت کر رہی ہے
10:56یہ فکری بددیانتی تھی
10:58یہ تو واقعی بہت سنگین بات تھی
11:00علم کو غمراہ کرنے کے لیے استعمال کرنا
11:03اچھا تو حق کو چھپانے اور ملانے سے منع کرنے کے بعد
11:06فوراں ہی عملی زندگی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے
11:10آیت 43 میں ہے
11:11اور نماز قائم کرو اور زکاة دو
11:14اور رکو کرنے والوں کے ساتھ رکو کرو
11:16تفہیم اتبارے میں کیا کہتی ہے
11:18جی تفہیم یا یہ واضح کرتی ہے
11:20کہ نماز اور زکاة کوئی نئی چیزیں نہیں تھی
11:23جو اسلام لایا تھا
11:24اچھا
11:25نہیں یہ تو دین ابراہیمی کے شروع سے ہی
11:27بنیادی عبادتیں رہی ہیں
11:29حضرت موسیٰ علیہ السلام سمیت
11:30تمام نبیوں نے ان کی تعقید کی تھی
11:32تو رات میں بھی حکم تھے
11:34تو پھر یہاں دوبارہ کیوں کہا جا رہا ہے
11:36اس لیے کہ قرآن کے نزول کے وقت
11:38بنی اسرائیل ان بنیادی چیزوں سے بھی
11:41بری طرح غافل ہو چکے تھے
11:43اچھا
11:44کس طرح کی غفلت تھی
11:45تفہیم بتاتی ہے
11:46کہ ان میں جماعت سے نماز پڑھنے کا رواش
11:49تقریباً ختم ہو گیا تھا
11:51بہت سے لوگ تو اکیلے بھی نہیں پڑھتے تھے
11:53اور جو پڑھتے بھی تھے
11:55وہ بس ایک رسم تھی
11:56اس کی روح ختم ہو چکی تھی
11:58اور زکاة کا کیا حال تھا
11:59زکاة کا نظام بھی بالکل بگڑ چکا تھا
12:02فرض زکاة دینے کی بجائے
12:04وہ لوگ سود کھانے لگے تھے
12:06بخیل ہو گئے تھے
12:07تو انہیں یاد دلایا جا رہا ہے
12:09کہ بھئی دین کی بنیاد تو یہی چیزیں ہیں
12:11انہیں دوبارہ زندہ کرو
12:13اور خاص طور پر رکو کرنے والوں کے ساتھ
12:16رکو کرو کا جو حکم ہے نا
12:18وہ باجمات نماز کی اہمیت بتا رہا ہے
12:20صحیح
12:21اور پھر اسی سلسلے میں آیت 44 آتی ہے
12:23جو بڑی چونکانے والی ہے
12:25کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو
12:28اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو
12:30حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو
12:32کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے
12:34یہ تو بہت سخت بات ہے
12:35جی ہاں یہ خاص طور پر
12:38ان کے علماء اور لیڈروں کے لیے ہے
12:40وہ دوسروں کو تو بڑی اچھی اچھی باتیں بتاتے تھے
12:43نیکی کی تلقین کرتے تھے
12:45تورات پڑھ پڑھ کر سناتے تھے
12:48لیکن خودعمل نہیں کرتے تھے
12:49بلکل ان کی اپنی زندگیاں
12:52ان باتوں سے خالی تھیں
12:53قرآن پوچھ رہے کہ یہ کیسی بے اقلی ہے
12:56دوسروں کو راستہ دکھاتے ہو
12:58خود گمرا پھرتے ہو
13:00کیا کتاب پڑھنے کا علم ہونے کا
13:02یہی فائدہ ہے
13:03تفہیم میں اس پر بہت زور ہے
13:07کہ علم اگر عمل میں نہ ڈھلے
13:09تو وہ بیکار ہے
13:10بلکہ الٹا بوجھ بن جاتا ہے
13:12یہ تو آج بھی اتنا ہی سچ ہے
13:14اچھا جب انسان نیکی پر چلنا چاہتا ہے
13:17خاص طور پر ایسے محول میں جہاں
13:19مخالفت ہو
13:19تو مشکلیں تو آتی ہیں نا
13:21جی بالکل آتی ہیں
13:22تو ان مشکلوں سے نمٹنے کے لیے
13:24کیا ہدایت دی گئی ہے
13:25اس کا جواب فوراً اگلی آیات
13:28پنتالیس اور چھیالیس میں ہے
13:29فرمایا
13:30اور سبر اور نماز سے مدد لو
13:33بے شک نماز ایک سخت مشکل کام ہے
13:36مگر ان فرما بردار بندوں کے لیے
13:38مشکل نہیں ہے
13:39جو سمجھتے ہیں
13:40کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا
13:43اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے
13:45سبر اور نماز سے مدد
13:48یہ کیسے مدد کرتے ہیں
13:50کیا مطلب ہے اس کا
13:51جی تفہیم اس کو بڑے اچھے سے کھلتی ہے
13:54دیکھیں جب آپ نیکی پر چلیں گے
13:57حق پر قائم رہیں گے
13:58برائی کے خلاف لڑیں گے
14:00تو مشکل آئیں آئیں گی
14:02اندر سے بھی اپنا نفس
14:04سستی کمزوری
14:05اور باہر سے بھی
14:07لوگ مخالفت کریں گے
14:09تانے دیں گے
14:10نقصان پہنچ آئیں گے
14:11ان سب کا مقابلہ کرنے کے لیے
14:13دو بنیادی ہتھیار ہیں
14:15سبر اور نماز
14:17سبر کا کیا مطلب ہے یہاں
14:19صرف برداشت کرنا
14:21نہیں صرف برداشت نہیں
14:23سبر کا اصل مطلب ہے
14:24خود کو روکنا
14:25باندھنا
14:26یعنی اپنے جذبات کو
14:28قابو میں رکھنا
14:29گھبرانا نہیں
14:30ہمت نہیں ہارنا
14:32اور مشکل حالات میں بھی
14:33صحیح راستے پر جمع رہنا
14:35یہ ایک پوزیٹیف طاقت ہے
14:37ارادے کی پختگی
14:39اچھا
14:41اور نماز
14:42وہ کیسے مدد کرتی ہے
14:44نماز اس سبر کو
14:45اصل طاقت فراہم کرتی ہے
14:47روحانی طاقت
14:48وہ کیسے
14:49جب آپ دن میں پانچ بار
14:51اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں
14:52اس سے جڑتے ہیں
14:54اس سے مدد مانگتے ہیں
14:55اپنی زندگی کا مقصد
14:57یاد کرتے ہیں
14:58تو آپ کے اندر ایک تونائی آتی ہے
15:00اس تونائی سے
15:02سبر کرنا آسان ہو جاتا ہے
15:04نماز آپ کو
15:05اللہ سے جوڑتی ہے
15:07تو دنیا کی مشکلیں
15:08چھوٹی لگنے لگتی ہیں
15:09یہ تو بہت خوبصورت بات ہے
15:12لیکن آیت میں یہ بھی ہے
15:14کہ نماز ایک مشکل کام ہے
15:16اللہ علالخاشعین
15:18سوائے خاشعین کے
15:20یہ خاشعین کون لوگ ہیں
15:22اور ان کے لیے نماز کیوں مشکل نہیں
15:24خاشعین کا لفظ نکلا ہے
15:26خشو سے
15:27خشو کا مطلب ہے
15:28جھکنا
15:29آجزی کرنا
15:30دل کا نرم ہونا
15:32اللہ کی بڑائی کے احساس سے دب جانا
15:34اچھا
15:35تو خاشعین وہ لوگ ہیں
15:37جو اللہ کے آگے
15:39اپنی مرضی سے
15:40خوشی سے
15:41محبت سے
15:42اور اس کے خوف سے جھک جاتے ہیں
15:44تفہیم کہتی ہے
15:46کہ جو بندہ
15:47اللہ کا باغی ہو
15:48دنیا میں مگن ہو
15:49جسے آخرت کا خیال نہ ہو
15:52اس کے لیے تو نماز پڑھنا
15:53وقت نکالنا
15:55مسجد جانا
15:56یہ سب ایک بوجھ لگتا ہے
15:58ایک زبردستی کا کام
15:59ہاں
16:00اس پر بھاری گزرتی ہے
16:01جی
16:02لیکن جو خاشے ہے
16:04جس کے دل میں
16:05اللہ کی عظمت ہے
16:07اور جسے
16:08جیسا کہ
16:08اگلی آیت
16:0946 میں فوراً بتایا
16:11یہ یقین ہے
16:12کہ اسے ایک دن
16:13اپنے رب سے ملنا ہے
16:14یَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُوا رَبِّهِمْ
16:17اور اسی کے پاس
16:19واپس جانا ہے
16:20وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
16:22اس کے لیے نماز بوجھ نہیں بنتی
16:25اس کے لیے آسان ہو جاتی ہے
16:26آسان ہی نہیں
16:28بلکہ وہ اس کے لیے
16:29دل کا سکون بن جاتی ہے
16:31روح کی غزہ
16:32اپنے رب سے ملنے کا ذریعہ
16:35ایسے بندے کے لیے
16:36نماز پڑھنا مشکل نہیں ہوتا
16:38نماز چھوڑنا مشکل ہوتا ہے
16:40زبردست
16:41یعنی آخرت کا یقین
16:43اور اللہ سے ملاقات کا شوق
16:45یہی اصل چابی ہے
16:46بلکل
16:47یہی وہ چیز ہے
16:49جو صبر اور نماز جیسی
16:51بظاہر مشکل چیزوں کو
16:52ممکن بلکہ پر لطف بنا دیتی ہے
16:55تو اگر ہم اس پورے رکوع کا خلاصہ کریں
16:58تو بنی اسرائیل کو
16:58کیا کیا یاد دلایا گیا
17:00کیا حکم دیا گیا
17:01بنیادی طور پر
17:02تو انہیں اللہ کی نعمتیں
17:04یاد دلائیں گئیں
17:05اور وہ اہد یاد دلایا گیا
17:07جو ان سے لیا گیا تھا
17:08پھر انہیں دعوت دی گئی
17:11کہ آخری نبی
17:12اور آخری کتاب پر ایمان لاؤ
17:14جو تمہاری ہی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے
17:17اور منہ کس چیز سے کیا گیا
17:19سختی سے منہ کیا گیا
17:21کہ دنیا کے تھوڑے فائدے کے لیے
17:23حق کو نہ چھپاؤ
17:24نہ سچ اور جھوٹ کو ملاؤ
17:26اور کرنے کا کیا حکم تھا
17:28حکم تھا کہ دین کے جو بنیادی ستون ہیں
17:31نماز اور زکاة
17:32انہیں دوبارہ ٹھیک سے قائم کرو
17:35اور آخر میں یہ سکھایا
17:37کہ حق پر چلنے میں جو مشکلیں آئیں
17:39ان میں صبر اور نماز سے مدد لو
17:41خاص طور پر وہ لوگ
17:43جنہیں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا احساس ہے
17:46یہ باتیں تو آج بھی مطلب
17:48ویسی ہی اہم لگتی ہیں
17:49خاص طور پر وہ حق نہ چھپانے والی بات
17:52اور تھوڑی قیمت پر نہ بیچنے والی
17:55بلکل
17:55تفہیم القرآن کا یہی تو خاصہ ہے
17:58کہ وہ قرآن کے پیغام کی
17:59ہمیشکی کو سامنے لاتی ہے
18:01یہ سبق سے بنی ازرائل کے لیے نہیں تھے
18:03یہ تو قیامت تک ہر اس انسان
18:06اور ہر اس گروہ کے لیے ہیں
18:07جو اللہ پر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے
18:10قول و فیل کا فرق
18:12دنیا کے لیے دین سے سمجھوتا کر لینا
18:15بنیادی فرض بھول جانا
18:17مشکل میں اللہ کو چھوڑ کر
18:19دوسروں سے امید لگانا
18:20یہ وہ بیماریاں ہیں
18:21جو ہر زمانے میں ایمان والوں کو لگ سکتی ہیں
18:24بلکل
18:25آج کے دور میں تو شاید یہ
18:27اور بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے
18:28معلومات اتنی زیادہ ہیں
18:30سچ جھوٹ اتنا ملاوا ہے
18:32کہ سمجھنا مشکل ہے
18:34جی
18:34اور ذاتی گروہی قومی فائدے
18:37اکثر سچ بولنے
18:39یا اس پر چلنے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں
18:41تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے
18:43کہ کوئی انسان
18:44یا کوئی قوم
18:45حق پر قائم کیسے رہے
18:47وہ کون سی طاقت ہے
18:49جو اسے اس تھوڑی قیمت
18:51کے لالت سے بچائے
18:52اور صبر کے ساتھ
18:53اللہ کے حکم پر چلنے میں مدد دے
18:55شاید اس رکوع کی روشنی میں
18:57اس سوال پر سوچنا
18:58ہم سب کے لیے بہت فائدہ مند ہو
19:00یقیناً اس پر غور و فکر بہت ضروری ہے
19:04ہم سب کے لیے بہت ضروری ہے
Comments

Recommended