- 7 months ago
- #todayinhistory
Discover what happened on January throughout history, highlighting a variety of historical moments from around the world.
#todayinhistory
You’ll know about:
📜 Major historical events
🎉 Celebrated holidays and festivals
🎂 Notable birthdays of famous people
🕯️ Significant deaths that took place on this day
#todayinhistory
You’ll know about:
📜 Major historical events
🎉 Celebrated holidays and festivals
🎂 Notable birthdays of famous people
🕯️ Significant deaths that took place on this day
Category
📚
LearningTranscript
00:00اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم آج چار جنوری ہے لالا کریم تیرا شکر کہ تُو نے آج کا دن دکھایا اور میرے مولا ہمارے آج کی دن کو کل کے دن سے گزشتہ دن سے بہتر کر دینا اور ہمارے آنے والے دن کو آج کی دن سے بہتر کر دینا
00:18بقول پیر نصیر صاحب کے قصے مانگوں کہاں جاؤں قصے کہوں میں حضر نیاز اور آج کے پروگرام میں ہم ڈسکس کریں گے پاکستان نے چین کو تسلیم کیا ایک اہم خبر تھی اس کے علاوہ جو سیاسی تدیلیاں اور حادثات ہیں ان کا بھی ذکر ہوگا
00:40لویس بریل کی ولادت کا دن ہے مولانا محمد علی جہور کے انتقال کی خبر ہے اور میں آخر میں محمد علی جہور کے انتقال کے حوالے سے اور ان کی شخصیت اور زندگی کے حوالے سے تھوڑی سی تفصیل مزید بیان کروں گا آئیے اے آئی پاڈکاست سنتے ہیں
01:00چار جنوری ہمارے سامنے جو ماخذ ہے وہ بظاہر تو صرف تاریخوں اور ناموں کی ایک فیرس لگتی ہے ایک طرح کا ٹائم کیپسول
01:09لیکن جب اسے کھولتے ہیں نا تو اس میں سے انسانی تاریخ کی ایک بہت ہی عجیب و دلچسپ تصویر نکلتی ہے
01:16آج کوشش یہ کریں گے کہ دیکھیں کہ ایک ہی دن مختلف زمانوں میں مختلف جگہوں پر انسانیت کی کہانی میں کیسے کیسے موڑ لائیا
01:23اور یہی بات اس پوری مش کو دلچسپ بناتی ہے یہ صرف مطلب حقائق کو جاننا نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان شپے ہوئے پیٹرنز کو پہچاننا ہے
01:34جب ہم چار جنوری کے واقعات کو ایک ساتھ رکھتے ہیں تو ایک مسلسل کشمکش نظر آتی ہے
01:40امید اور مایوسی کے بیچ تعمیر اور تخریب کے بیچ
01:44ایک ہی تاریخ کسی کے لیے آزادی کا جشن ہے تو کسی کے لیے ایک بڑے سانہے کی یاد
01:51یہ ہمیں تاریخ کے وہ جو سیدھا سادھا ہونے کا تصور ہے نا اسے چیلنج کرنے پر مجبور کرتی ہے
01:58تو آئیے اس پیچیدہ تصویر کو جوڑنا شروع کرتے ہیں سب سے پہلے پاکستان اور برے سغیر کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں
02:06یہاں چار جنوری کی تاریخ خوشی اور غم دونوں کی کہانیاں سناتی ہے
02:10انیس سو نوے میں اسی دن سانگڑا میں ایک بہت ہی خوفناک ٹرین حادثہ پیش آیا
02:16تین سو سے زائد جانے یہ ایک قومی سانہہ تھا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا
02:22جی یہ ایک بہت بڑا علمیہ تھا اور یہ اس وقت کے انفرسٹرکچر کی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے
02:29لیکن اگر ہم اسی تاریخ کو ایک دہائی بات دیکھیں تو ایک بلکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے
02:36اچھا
02:36دو ہزار پانچ میں اسی چار جنوری کو صدر پرویز مشرف نے کاروکاری جیسی قدیم اور ظالمانہ رسم کے خلاف قانون پر دستخط کیے
02:47تو دیکھیں ایک طرف ایک حادثاتی سانیہ ہے اور دوسری طرف ایک سماجی برائی کو جڑ سے اکھارنے کی ایک شعوری کوشش
02:55اور پھر اسی تاریخ پر دو ہزار گیارہ میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا قتل
03:01تو ایک ہی دن پر یہ تین واقعات ایک حادثہ ایک سماجی اصلاح کی کوشش اور ایک سیاسی قتل
03:09یہ مطلب یہ پاکستان کی کہانی کے بارے میں کیا بتاتے ہیں
03:14ایسا لگتا ہے کہ یہ معاشرے کی متضاد قوتوں کی اقاسی ہے
03:17آپ نے بالکل صحیح نکتہ اٹھایا
03:20یہ تینوں واقعات پاکستان کے سفر کی تین مختلف حقیقتوں کی آپ کہہ سکتی ہیں علامت ہیں
03:26ٹرین حادثہ نظام کی ناکامی اور بے بسی کو دکھاتا ہے
03:31کاروکاری کے خلاف قانون اصلاح اور ترقی کی اس خواہش کو ساہر کرتا ہے
03:36جو معاشرے میں ہمیشہ موجود رہتی ہے
03:39اور سلمان تاثیر کا قتل وہ اس نظریاتی تقسیم اور ادم برداشت کو ظاہر کرتا ہے
03:46جو اس ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے
03:49یہ دکھاتا ہے کہ معاشرہ آگے بڑھنے کی کوشش بھی کر رہا ہے
03:53اور اسے پیچھے کھیچنے والی قوتوں سے لڑ بھی رہا ہے
03:57اسی فیرس میں ایک اور واقعہ بھی ہے
03:59جس نے خطے کی سیاست پر بہت دور رس اثرات ڈالے
04:041950 میں چار جنوری کو پاکستان نے عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو تسلیم کیا
04:11اس وقت کے حالات میں یہ ایک بہت بڑا اور شاید متنازع فیصلہ تھا
04:17یہ ایک انتہائی آپ کہہ سکتی ہیں جرت مندانہ اور دور اندیشی فیصلہ تھا
04:23یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 1949 کے کومنسٹ انقلاب کے بعد
04:27دنیا سرد جنگ کی وجہ سے دو کیمپوں میں بٹی ہوئی تھی
04:31امریکہ اور مغربی دنیا چین کی نئی حکومت کو بہت شک کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی
04:37ایسے میں پاکستان جو خود ایک نیا ملک تھا
04:42اس کا چین کو تسلیم کرنا ایک بہت بڑا صفارتی قدم تھا
04:46اس فیصلے نے نہ صرف ایک طاقتور پڑوسی کے ساتھ تعلقات کی بنیاد رکھی
04:51بلکہ مستقبل میں معاشی اور دفاعی شراکتداری کے وہ دروازے کھولے
04:57جن کے بغیر آج پاکستان کا تصور بھی مشکل ہے
05:00یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے جنوبی ایشیا کی جیو پولٹکس کی سم تھی
05:06ہمیشہ کے لیے بدل دی
05:07برے صغیر کی تاریخ میں تھوڑا اور پیچھے چلتے ہیں
05:10انیس سو بتیس اسی دن برطانی وائس رائے نے گاندھی اور نہرو کو گرفتار کیا
05:16بظاہر تو یہ تحریکِ آزادی کو دبانے کی ایک کوشش تھی
05:20کیا یہ برطانی حکومت کا ایک سٹریٹیجک اقدام تھا
05:25یا ایک گھبرات میں کیا گیا فیصلہ
05:27یہ ایک بہت دلچسپ سوال ہے
05:29میرے خیال میں یہ دونوں کا مرکب تھا
05:32سٹریٹیجک اس لیے کہ وہ سیول نافرمانی کی تحریک کے لیڈرز کو
05:36الگ تھلگ کر کے تحریک کو کمزور کرنا چاہتے تھے
05:39صحیح
05:40لیکن یہ گھبراہٹ کی علامت بھی تھی
05:42کیونکہ یہ ظاہر کرتا تھا کہ تحریک کا اثر اتنا بڑھ گیا تھا
05:47کہ برطانوی راج اسے اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگا تھا
05:50لیکن نتیجہ
05:51نتیجہ ان کی توقعات کے بلکل برعکس نکلا
05:54ان گرفتاریوں نے عوام میں غصے کی آگ کو مزید بھڑکا دیا
05:59اور جدو جہد کا عظم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا
06:02یہ تاریخ کا ایک کیا کہتے ہیں کلاسک سبق ہے
06:05کہ جبر اکثر مزاہمت کو ختم نہیں کرتا
06:09بلکہ اسے ایک نئی زندگی بخشتا ہے
06:11برے صغیر کی یہ کشمکش تو واضح ہے
06:14کیا عالمی سطح پر بھی چار جنوری ہمیں یہی اروج و زوال کی کہانی سناتی ہے
06:19بلکل
06:20بلکہ عالمی سطح پر تو یہ تضاد اور بھی زیادہ نمائی ہے
06:25چار جنوری 1948 کو برما
06:29یعنی آج کا میانمار نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی
06:33یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہونے والے
06:37ڈی کولونائزیشن کے دور کا ایک اہم سنگے میل تھا
06:41یہ ایک قوم کے لیے امید اور ایک نئے آغاز کا دن تھا
06:45جنگ نے یورپی سامراجی طاقتوں کو کمزور کر دیا تھا
06:49اور دنیا بھر میں آزادی کی لہر چل پڑی تھی
06:53لیکن اگر ہم اسی تاریخ کو تقریباً دو صدیان پیچھے لے جائیں
06:57تو سترہ سو باسٹ میں ایک بلکل مختلف واقعہ نظر آتا ہے
07:00اسی دن انگلستان نے سپین اور نیپلز کے خلاف جنگ کا اعلان کیا
07:05ایک طرف آزادی کا جشن
07:07دوسری طرف جنگ اور توسی پسندی کا آغاز
07:10اور یہی تاریخ کا سب سے دلچسپ پہلو ہے
07:14یہ دونوں واقعات ایک ہی سکے کے دو روخ ہیں
07:17سترہ سو باسٹ کا اعلان جنگ
07:20اس سامراجی دور کے اروج کی علامت ہے
07:22جب یورپی طاقتیں دنیا بھر میں اپنی سلطنتیں پھیلا رہی تھیں
07:27اور وسائل پر قبضے کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہی تھیں
07:31جبکہ انیس سو اٹالیس میں
07:33برما کی آزادی اسی سامراجی نظام کے زوال اور خاتمے کا اعلان ہے
07:39تو ایک ہی تاریخ چار جنوری
07:42ہمیں ایک ہی وقت میں
07:43سامراج کے اروج اور زوال دونوں کی کہانی سنا رہی ہے
07:47یہ ہمیں یاد دلاتا ہے
07:49کہ تاریخ میں کوئی بھی دور ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا
07:52ان تمام جنگوں اور سیاسی فیصلوں کے شور میں
07:55ایک ایسا نام ہے جو بلکل الگ کھڑا ہے
07:57اور مجھے اسے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی
07:59لویس بریل
08:01جن کی پیدائش اٹھارہ سو نو میں اسی دن ہوئی
08:04ایک شخص جس کی اجاد نے سیاست نہیں
08:07بلکہ انسانیت کی سمت بدل دی
08:08آپ نے بہت خوبصورت بات کہی
08:11بریل کی اجاد صرف وہ حروف کو چھو کر پڑھنے کا ایک نظام نہیں ہے
08:16یہ کروڑوں نابینہ افراد کے لیے
08:18علم آزادی اور خودمختاری کا دروازہ ہے
08:21بریل جو خود تین سال کی عمر میں بینائی سے محروم ہو گئے تھے
08:25وہ اس تنہائی اور بیبسی کو سمجھتے تھے
08:27جو علم تک رسائی نہ ہونے سے پیدا ہوتی ہے
08:29بلکل ان کے نظام نے نابینہ افراد کو وہ طاقت دی
08:33جس سے وہ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں
08:36لکھ سکتے ہیں
08:37اور معاشرے کا برابر کا حصہ بن سکتے ہیں
08:40یہ اس بات کی بہترین مثال ہے
08:42کہ کس طرح ایک شخص کی ہمدردی اور ذہانت
08:46پوری دنیا کو روشن کر سکتی ہے
08:48اور جہاں ایک طرف ایک نئی روشنی کا جنم ہوا
08:52وہیں اسی تاریخ کو علم و عدب کے کچھ بڑے ستارے غروب بھی ہوئے
08:56انیس سو پیسٹھ میں عظیم شاعر ٹی ایس ایلیٹ کا انتقال ہوا
09:00اور برے سغیر کی ایک بہت اہم شخصیت
09:03اتیا فیضی انیس سو سرسٹھ میں اسی دن انتقال کر گئی
09:08ان دونوں شخصیات کا اپنے اپنے دائروں میں بہت گہرا اثر تھا
09:12ٹی ایس ایلیٹ وہ تو جدید مغربی عدب کا ایک ستون تھے
09:16ان کی شاعری خاص طور پر
09:19دو ویسٹ لینڈ وہ پہلی جنگ عظیم کے بعد کی نسل کی
09:22مایوسی روحانی کھوکلے پن اور ٹوٹ پوٹ کا ایک ایسا اکس ہے
09:27جو آج بھی آج بھی اتنا ہی ریلیونٹ محسوس ہوتا ہے
09:31میں نے سنا اس کے بارے میں
09:32میں نے جب پہلے بار دو ویسٹ لینڈ پڑھی تھی
09:35تو مجھے اس کی مایوسی نے بہت متاثر کیا تھا
09:38یہ صرف شاعری نہیں تھی
09:40بلکہ ایک پورے اہد کا نفسیاتی ایکس رے تھا
09:43اور اتیا فیضی
09:44وہ تو اپنے وقت سے بہت آگے تھی
09:46بلا شبہ
09:47اتیا فیضی ایک غیر معمولی خاتون تھی
09:50وہ ایک ایسے دور سے تعلق رکھتی تھوں
09:52جب برے صغیر کی مسلم خواتین کے لیے
09:54عوامی زندگی میں حصہ لینا تو دور
09:57تعلیم حاصل کرنا بھی ایک بہت بڑا چیلنج تھا
10:00انہوں نے نا صرف خود
10:01عالی تعلیم حاصل کی بلکہ خواتین
10:03کی تعلیم اور حقوق کے بھرپور
10:05وقالت کی ان کا گھر اس وقت
10:07کے عدیبوں شاعروں اور دانشوروں
10:09کا مرکز ہوا کرتا تھا جہاں
10:11علامہ اقبال اور شبلی نمانی جیسی
10:13شخصیات آیا کرتی تھیں
10:14ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے
10:17کہ کس طرح ایک فرد معاشرتی
10:19زنجیروں کو توڑ کر آنے والی نسلوں
10:21کے لیے راستے بنا سکتا ہے
10:23اسی فیرست میں ایک اور بڑا نام
10:25مولانا محمد علی جوہر کا ہے
10:26جو انیس سو اکتیس میں
10:28لندن کی گول میس کانفرنس کے دوران
10:31اسی دن وفات پا گئے
10:32مولانا محمد علی جوہر کی وفات
10:35مبزاتے خود ایک تاریخی
10:37اور علامتی بیان ہے
10:39وہ ہندوستان کی آزادی کی
10:41وقالت کرنے لندن گئے تھے
10:42اور انہوں نے وہاں اپنی مشہور تقریر
10:45میں کہا تھا کہ میں ایک غلام
10:47ملک میں واپس نہیں جاؤں گا
10:49اور پھر ایسا ہی ہوا
10:50ان کا انتقال لندن میں ہی ہوا
10:52اور ان کی تتفین بیت المقتص میں کی گئی
10:55تو یہ تینوں شخصیات
10:57ایلیٹ، اتیہ فیزی
10:59اور محمد علی جوہر
11:00ان کا ایک ہی دن دنیا سے جانا
11:02ہمیں یاد دلاتا ہے
11:04کہ تاریخ کو چلانے والی قوتیں
11:06صرف بادشاہ اور جنگیں نہیں
11:08بلکہ نظریات، فن
11:10اور ان کو جنم دینے والے لوگ بھی ہوتے ہیں
11:13بلکل
11:14اور اب آخر میں ایک ایسا واقعہ
11:16جو ہمیں زمین سے اٹھا کر
11:18ستاروں کی طرف لے جاتا ہے
11:19انیس سو انسٹھ میں
11:21لیونہ ون نامی خلائی جہاز
11:23چاند تک پہنچا
11:24اکثر یہ سمجھا جاتا ہے
11:26کہ یہ چاند پر اترا تھا
11:27لیکن در حقیقت
11:29یہ اس کے قریب سے گزرنے والا
11:30پہلا انسانی ساختہ جہاز تھا
11:32ہے نا
11:33جو اپنے آپ میں ایک انقلابی قدم تھا
11:36جی
11:36اور یہ ایک عام غلط فہمی ہے
11:39یہ خلائی تحقیق کی تاریخ کا
11:41ایک فیصلہ کن لمحہ تھا
11:43یہ سوویت یونین کا مشن تھا
11:45اور یہ سرد جنگ کے دوران
11:47امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان
11:50جاری خلائی دور کا ایک اہم باب تھا
11:53آج کے میار سے یہ شاید ایک معمولی کامیابی لگے
11:57لیکن اس وقت
11:58اس وقت یہ انسانی عظم
12:01اور ٹیکنالوجی کی ایک بہت بڑی چھلانگ تھی
12:04اس نے پہلی بار یہ ثابت کیا
12:06کہ انسان زمین کی کشش سکل کی حدود سے نکل کر
12:10کائنات کے دوسرے اجسام تک پہنچ سکتا ہے
12:13اس ایک مشن نے انسان کے چاند پر قدم رکھنے کی بنیاد رکھی
12:18یہ انسان کی اس ازلی پیاس کی علامت ہے
12:22جو اسے ہمیشہ نامعلوم کی خوج پر اکساتی ہے
12:26تو ہم نے آج کیا دیکھا
12:28ایک ہی چوبیس گھنٹے کے کینوز پر
12:31انسانیت کی بہترین اور بدترین تصویریں
12:34ایک طرف بریل کی ایجاد ہے
12:36جو اندھیروں میں روشنی لاتی ہے
12:38اور چاند کی طرف پہلا قدم ہے
12:40جو ہماری پہنچ کو وسی کرتا ہے
12:42اور دوسری طرف قتل
12:44جنگ
12:45حادثات
12:46اور جبر کی کہانیاں ہیں
12:47یہ تو انسانی فطرت کی ایک مکمل
12:49اقاسی لگتی ہے
12:50بلکل
12:51چار جنوری ہمیں یہ سکھاتی ہے
12:54کہ ترقی کوئی سیدھی
12:56ہموار لکیر نہیں ہے
12:57بلکہ یہ ایک مسلسل
13:00پیچیدہ
13:00اور اکثر
13:01متضاد جدو جہد کا نام ہے
13:04جس دن انسان ستاروں کو چھونے کی کوشش کر رہا تھا
13:08اسی دن وہ زمین پر ایک دوسرے کی جان لے رہا تھا
13:11ہمواری
13:12جس دن ایک ظالمانہ رسم کے خلاف قانون بن رہا تھا
13:15اسی دن ایک سیاسی رہنما کو
13:17ادم برداشت کی بھیٹ چڑھایا جا رہا تھا
13:19ہمواری
13:20یہ ظاہر کرتا ہے
13:21کہ ہماری عظیم ترین کامیابیوں
13:23اکثر ہماری گہری ترین ناکامیوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں
13:27تو پھر تاریخ کو یاد رکھنے کا مطلب کیا ہوا
13:29یہ فیرس تو صرف چند چنے وے واقعات کی ہے
13:32اس دن نجانے کتنی کہانیاں ہوں گی
13:35جو کبھی لکھی ہی نہیں گئی
13:36اور یہی وہ نکتہ ہے
13:37جو ہمارے سننے والوں کے لیے غور طلب ہے
13:40تاریخ صرف وہ نہیں جو کتادوں میں لکھا ہے
13:43یہ ان انگنت
13:45انکہی کہانیوں کا مجموعہ بھی ہے
13:47جو وقت کی دھول میں گم ہو جاتی ہیں
13:50اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے
13:52کہ آج یعنی جس دن ہم یہ بات کر رہے ہیں
13:55ہماری دنیا میں کیا ہو رہا ہے
13:57جو کل کی بڑی تاریخ بنے گا
13:59اور کیا وہ کوئی سائنسی کامیابی ہوگی
14:02کوئی سیاسی بہران
14:03یا پھر کوئی ایسی چھوٹی سی
14:05اندیکھی نیکی یا جدو جہد کی کہانی
14:08جو آج کسی کی زندگی بدل رہی ہے
14:11اور جس کا ہمیں شاید کبھی علم بھی نہ ہو
14:14جی تو جیسا کہ میں نے کہا تھا
14:17کہ میں آخر میں
14:18محمد علی جوہر پہ بات کروں گا
14:20تو جناب محمد علی جوہر
14:21دس دسمبر اٹھالہ سو اٹھتر کو پیدا ہوئے
14:24چار جنوری انیس سو اکتیس
14:27کو انہوں نے انتقال کیا
14:28تحریک ازادی کے کارکون
14:30انڈین نیشنل کانگرس کے ممتاز
14:32رکن صحافی اور شائر تھے
14:34وہ تحریک خلافت کی سرکردہ شخصیت
14:37اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانیوں میں سے ایک تھے
14:40وہ ریاست رامپور میں پیدا ہوئے
14:42دو سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا
14:45والدہ عبادی بانو بیگم
14:47مذہبی خصوصیات کا مرقہ تھی
14:49اس لئے بچپن ہی سے
14:50تعلیمات اسلامی سے گہرا شغف تھا
14:53اقتدائی تعلیم رامپور میں
14:55اور بریلی میں پائی
14:56اعلی تعلیم کے لئے علی گر چلے گئے
14:58بی اے کا امتحان شاندار کامیاب
15:00اسے پاس کیا کہ
15:01علابہ یونیورسٹی میں اول آئے
15:04آئی سی ایس کی تکمیل
15:06آکسفورڈ یونیورسٹی میں کی
15:07واپسی پر رامپور اور بڑودہ کی ریاستوں میں ملازمت کی
15:11جلد ہی ملازمت سے دل بھر گیا
15:14اور قلقتہ جا کر انگریزی اخبار
15:16کاؤوریٹ جاری کیا
15:17مولانا کی لا جواب انشاء پردازی
15:20اور ذہانت تباہ کی بدولت
15:22نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ہند
15:24بھی کامریٹ بڑے شوق سے پڑا جاتا تھا
15:26انگریز زبان پر
15:28عبور کے علاوہ بولانا کی
15:30اردو دانی بھی مسلم تھی
15:32انہوں نے ایک اردو روزنا ماہ
15:33ہمدرد بھی جاری کیا جو بے باقی
15:36اور بے خوفی کے ساتھ اظہار خیال
15:38کا کامیاب نمونہ تھا
15:40جدو جہد ازادی میں
15:41سرگرم حصہ لینے کے جرم میں
15:43مولانا کی زندگی کا کافی حصہ
15:45قید و بند میں بسر ہوا
15:47تحریک عدم تعاون کی
15:50پاداش میں کئی سال جید میں رہے
15:51انیس سو انیس کی تحریک خلافت
15:53کے بانی آپ ہی تھے
15:55تحریک ترک موالات میں
15:57گاندی جی کے برابر شریک تھے
15:59جامعہ ملیہ اسلامی دلی
16:01آپ ہی کی کوششوں سے قائم ہوا
16:03آپ جنوری
16:05انیس سو کتیس میں گول بیز
16:07کانفرنس میں شرکت کی گرس انگلستان
16:09گئے یہاں آپ نے آزادی
16:11وطن کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا
16:13کہ اگر تم انگریز میرے ملک
16:15کو آزاد نہ کرو گے تو میں
16:17واپس نہیں جاؤں گا اور تمہیں
16:19میری قبر بھی یہیں بنانا ہوگی
16:23اس کے کچھ عرصہ بعد
16:24آپ لندن ہی میں انتقال فرما گئے
16:26انہا لیلہ و انہا
16:28علیہ راجعون تدفین
16:30کے لیے آپ کی مید بیت المقدس
16:32لے جائے گئی تو
16:33آپ کو بیت المقدس میں دفن
16:36کیا گیا شاعر بھی
16:38بڑے خوبصورت تھے دو شیر
16:40تو ان کے ایسی ہیں جو برخال میں
16:42سب جانتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے
16:44کہ یہ ان کے شیر ہیں
16:45توحید تو یہ ہے کہ خدا
16:47حشر میں کہہ دے یہ
16:49بندہ دو عالم سے خفا
16:52میرے لیے ہے کیا
16:53کہنے اور ان کا یہ شیر
16:55بھی کافی مشہور ہے قتل
16:57حسین نسل میں مرگ
16:59یزید ہے اسلام
17:01زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
17:03حضر نیاز کو اجازت دیجئے
17:05اللہ تعالیٰ آپ کو آسانی آتا فرمائے
17:07اور آسانی آتا فرمائے
17:09توفیق آتا فرمائے
17:11اللہ حافظ خوش رہو
Comments