Skip to playerSkip to main content
Tafheem-ul-Quran . “Towards Understanding the Qur’an”) is a renowned 6-volume translation and commentary of the Holy Qur’an authored by Maulana Syed Abul A‘la Maududi (1903–1979). Written between 1942 and 1972, it stands as one of the most influential modern works of Qur’anic exegesis.
#tafheemulquran

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30پہلے وہ جو شان نزول کہلاتا ہے نا یعنی وہ وقت اور حالات ان کو ذہن میں رکھیں
00:35صورت البٹرہ کا بڑا حصہ مدینہ منورہ کے بالکل ابتدائی دور کا ہے
00:41جب ہجرت کے فوراں بعد ایک نئی اسلامی ریاست ایک معاشرہ بن رہا تھا
00:47یہ پسے منظر سمجھنا بہت اہم ہے
00:50صحیح تو پھر نام سے ہی شروع کرتے ہیں
00:53البکرہ یعنی گائے یہ نام مطلب تھوڑا سا غیر متوقع لگتا ہے
00:58اس کی کیا وجہ ہے
00:59اچھا سوال ہے
01:00دیکھیں قرآن کی صورتوں کے نام اکثر علامتی ہوتے ہیں
01:05اس صورت میں آگے چل کر بنی اسرائیل سے متعلق گائے کا ایک واقعہ آتا ہے
01:10تو بس اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے یہ نام رکھا گیا
01:13مقصد یہ بتانا نہیں کہ پوری صورت کا موضوع گائے ہے
01:17یہ تو عربوں کا ایک انداز تھا پہچان کے لیے
01:20جیسے وہ کہتے کہ اچھا وہ صورت جس میں گائے کا ذکر ہے
01:24قرآن کے مزامین اتنے زیادہ اور متنوے ہوتے ہیں
01:28کہ کوئی ایک انوان تو ظاہر سب کا احاطہ نہیں کر سکتا
01:32تو یہ نام صرف ایک نشانی ہے
01:35ٹھیک اور نزول کے وقت کے بارے میں آپ نے کہا
01:38کہ ابتدائی مدنی دور
01:39تو کیا یہ پوری صورت ایک ہی دفعہ نازل ہوئی تھی
01:42نہیں نہیں ایسا نہیں ہے
01:44اس کا بڑا حصہ تو یقیناً ابتدائی مدنی دور کا ہی ہے
01:48لیکن قرآن کی ترتیب میں یہ حکمت رکھی گئی
01:51کہ آیات کو موضوع کے لحاظ سے جمع کیا گیا
01:54مثلاً سود کی حرمت والی آیات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری حصے میں آئیں
02:01لیکن چونکہ وہ معاشی ہدایات سے متعلق تھی
02:05انہیں یہیں صورت البقرہ میں شامل کر دیا گیا
02:08اچھا؟
02:08جی یہاں تک کہ صورت البقرہ کی جو آخری دو آیات ہیں نا
02:12جن کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے
02:14وہ تو ہجرت سے بھی پہلے مکہ میں نازل ہو چکی تھی
02:18مگر موضوع کی مناسبت سے انہیں بھی یہیں رکھا گیا
02:21تو یہ تدریجی نزول یعنی آہستہ آہستہ اترنا
02:25اور پھر موضوع کے لحاظ سے ترتیب دینا یہ قرآن کی خاص بات ہے
02:29یہ واقعی قابل غور بات ہے
02:32اچھا اب آتے ہیں مدینہ کے اس تاریخی پسمنظر کی طرف
02:36مکہ میں تو زیادہ تر سامنا مشرقین سے تھا
02:39آپ نے بتایا مدینہ میں صورتحال مختلف تھی کیسے؟
02:42جی مدینہ پہنچتے ہی جو سب سے نمائیاب گروہ سامنے آیا
02:46وہ یہودی تھے وہ وہاں صدیوں سے آباد تھے
02:50اب وہ مکہ کے مشرقین جیسے نہیں تھے
02:53کہ اللہ کو یا رسول کو یا وہی آخرت ان چیزوں کو مانتے ہی نہ ہوں
02:58وہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو ماننے والے تھے
03:01یعنی اصولی طور پر تو ان کا دین وہی تھا
03:05جس کی دعوت مبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دے رہے تھے
03:07اسلامی تھا؟
03:08بلکل اصولی طور پر تو وہی دین تھا
03:11تو پھر مسئلہ کیا تھا؟
03:12اختلاف کیوں ہوا؟
03:13انہیں تو سب سے پہلے مان لینا چاہئے تھا؟
03:15جی یہی تو اصل بات ہے
03:17ہوا یہ کہ صدیان گزرنے کے ساتھ ساتھ
03:21وہ دین کی اصل روح سے بہت دور ہو گئے تھے
03:23عقیدوں میں بہت سے غیر اسلامی باتیں آ گئیں تھیں
03:26عملی زندگی بس رسموں کی پابند ہو کر رہ گئی تھی
03:29اور سب سے بڑی بات انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا
03:32کہ اللہ کا دین بس انہی کی
03:34یعنی بنی اسرائیل کی میراس ہے
03:36اچھا
03:37وہ تورات میں بھی تبدیلیاں کر چکے تھے
03:40اور جو حصہ بچاوا تھا
03:42اس کی بھی اپنی مرضی کی تشریحات کرتے تھے
03:44دینداری بس ظاہری شکل و صورت تک رہ گئی تھی
03:47اور وہ اپنی اس حالت پر بڑے خوش اور مطمئن تھے
03:50کوئی بھی اصلاح کی بات کرتا
03:52تو انہیں لگتا تھا کہ یہ ہماری چودرہاٹ کے خلاف ہے
03:55اسی لئے صورت البقرہ کے شروع کے حصوں میں
03:58خاص طور پر انہیں مخاطب کیا گیا
04:00انہیں اصل دین یاب دلائیا گیا
04:02اور ان کی تاریخ بتا کر
04:04ان کی غلطیوں پر تنقید کی گئی
04:05یعنی مکہ میں تو صرف دعوت تھی
04:07انفرادی طور پر
04:09مدینہ میں آ کر ایک ریاست بن رہی تھی
04:11تو اس کے اپنے مسائل تھے
04:13ملکل مدینہ میں صرف دعوت نہیں تھی
04:15ایک پورا معاشرہ ایک ریاست بن رہی تھی
04:18مہاجرین تھے انسار تھے
04:21انہوں نے مل کر ایک چھوٹی سی
04:22اسلامی ریاست کے بنیاد رکھ دی تھی
04:24اب ضرورت تھی کہ زندگی کے سارے معاملات
04:27مطلب معاشرت
04:28معیشت قانون سیاست
04:30ان سب کے لیے اللہ کی طرف سے رہنم آئی آئے
04:35آپ دیکھیں گے کہ اصولی ہدایات کا
04:37ایک لمبا سلسلہ شروع ہوتا ہے
04:39جو آخر تک چلتا ہے
04:41اور ظاہر ہے یہ جو نئی ریاست بن رہی تھی
04:43اسے چیلنجز بھی تو ہوں گے
04:45بلکل اندر سے بھی باہر سے بھی
04:48یقیناً اور بہت سخت چیلنجز تھے
04:51آپ سوچیں
04:51ایک طرف یہ مٹھی بھر مسلمان
04:54اور دوسری طرف پورا عرب
04:55ان کا دشمن
04:56اس نازک صورتحال میں زندہ رہنے اور کامیاب ہونے کے لیے
05:00کئی چیزیں ضروری تھیں
05:01ایک تو یہ کہ اپنی دعوت کو ٹھیک سے پھیلائیں
05:04صحیح
05:04دوسرا جو مخالفین ہیں
05:07ان کی باتوں کا ان کے دلائل کا علمی طور پر جواب دیں
05:10تیسرا
05:11ہجرت کے وجہ سے دشمنی کی وجہ سے جو مشکلات تھیں
05:14غریبی تھی خوف تھا
05:16اس سب کا صبر اور حمد سے مقابلہ کریں
05:19چوتھا
05:20اگر لڑائی کی نوبت آئے
05:22تو دفاع کے لیے بھی تیار ہوں
05:24اور پانچوان
05:25یہ حمد بھی پیدا کریں
05:27کہ اگر لوگ سمجھانے سے نہ مانے
05:29تو اس غلط نظام کو
05:31جاہلیت کے نظام کو
05:32طاقت سے بدلنے کی بھی ہمت ہو
05:35صورت البقرہ ان سب چیزوں کے لیے
05:37بنیادی اصول بتاتی ہے
05:39اسی دوران ایک نیا گروہ بھی تو سامنے آیا تھا نا
05:42منافقین کا
05:43ان کا کیا معاملہ تھا
05:45جی نفاق
05:46اس کے کچھ ہلکے سے آثار
05:48تو مکہ کے آخری زمانے میں بھی نظر آنے لگے تھے
05:51مطلب وہ لوگ جو دل سے تو شاید اسلام کو ٹھیک سمجھتے تھے
05:55لیکن قربانی دینے سے گھبراتے تھے
05:57مدینہ آ کر یہ معاملہ تھوڑا اور پیچیدہ ہو گیا
06:00کچھ لوگ تو تھے ہی اسلام کے دشمن
06:02جو صرف نقصان پہنچانے کے لیے مسلمانوں میں گھوسائے تھے
06:05کچھ وہ تھے جو آپ کہلیں دوغلے تھے
06:08ادھر بھی رہنا چاہتے تھے ادھر بھی
06:10دونوں طرف سے فائدے اٹھانا چاہتے تھے
06:13کچھ تھے جو اسلام
06:14اور پرانے طور طریقوں کے بیچ میں
06:16مطلب تضبزب کا شکار تھے
06:19اور کچھ وہ بھی تھے
06:21جو اسلام کو مانتے تو تھے
06:23لیکن اس کی ذمہ داریاں اٹھانے سے
06:25اس کے لیے محنت کرنے سے
06:27بھاگتے تھے
06:28چونکہ یہ گروہ ابھی بن ہی رہے تھے
06:30ان کی پہچان ابھی پوری طرح
06:33صاف نہیں ہوئی تھی
06:34اس لیے آپ دیکھیں گے کہ سورت البقرہ میں
06:37ان کا ذکر نزبتاً مختصر ہے
06:39آگے کی صورتوں میں
06:40جب ان کا کردار زیادہ کھل کر سامنے آیا
06:43تو ان پر زیادہ تفصیل سے بات کی گئی
06:46یہ بس منظر واقعی مطلب سورت البقرہ کی
06:48اہمیت اور اس کے مضامین کتنے وسی ہیں
06:51یہ سمجھنے میں بڑی مدد دیتا ہے
06:53اب اگر ہم پہلی رکو پر آئیں
06:55یعنی آیت ایک سے ساتھ تک
06:57شروع ہوتا ہے
06:58الفلام میم سے
07:00ان حروف کا کیا مطلب سمجھا جائے
07:02اچھا یہ کہلاتے ہیں
07:04حروف مقتعات
07:06ان کے بارے میں جو سب سے زیادہ
07:08مستند بات لگتی ہے
07:10وہ یہ ہے کہ جس زمانے میں
07:12قرآن نازل ہو رہا تھا
07:14تب عرب میں اس طرح کے حروف
07:15کلام کے شروع میں بولنے کا رواج تھا
07:18لوگ اس سے معنوس تھے
07:19یہ کوئی ایسی پہلی نہیں تھی
07:21جسے بوجھنے کی ضرورت ہو
07:22اسی لئے آپ دیکھیں کہ
07:24نہ کبھی کافروں نے اس پر کوئی اعتراض کیا
07:26نہ صحابہ اکرام نے پوچھا
07:28کہ جی اس کا کیا مطلب ہے
07:29وقت گزرا
07:32وہ انداز ختم ہو گیا
07:33تو بات کے لوگوں نے
07:34ان کے معنی نکالنے کی کوشش کی
07:36اور اس میں پھر بہت اختلاف ہوا
07:39لیکن اہم بات یہ ہے
07:40کہ قرآن سے ہدایت لینے کے لیے
07:43ان حروف کا کوئی خاص مطلب
07:45جاننا ضروری نہیں ہے
07:46ہو سکتا ہے یہ اللہ اور اس کے رسول کے درمیان
07:49کوئی راز ہو
07:50یا صرف بات شروع کرنے سے پہلے
07:52توجہ دلانے کا ایک طریقہ ہو
07:54ٹھیک ہے
07:55اگلی آیت
07:56ذالک الکتاب لا ریب فی
07:59یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں
08:01یہ تو شروع میں ہی ایک
08:02بہت بڑا بہت پر اعتماد دعویٰ ہے
08:05یقیناً
08:06اور اس کے دو پہلو بہت اہم ہے
08:10ذرا بھی شک نہیں کہ یہ کتاب
08:12اللہ کی طرف سے ہے
08:14یہ کسی انسان کی بنائیوی نہیں ہے
08:16اور دوسرا مطلب یہ ہے
08:18کہ اس کتاب میں جو کچھ کہا گیا ہے
08:20جو تعلیمات ہیں وہ سب حقائق پر مبنی ہے
08:23ان میں شک اور وہم کی کوئی گنجائش نہیں
08:26دنیا میں جو لوگ غیب کی باتیں کرتے ہیں
08:29ماورائی چیزوں پر کتابیں لکھتے ہیں
08:31وہ تو انسانی اندازوں پر مبنی ہوتی ہیں
08:33لکھنے والے خود بھی شک میں ہو سکتے ہیں
08:36لیکن یہ کتاب
08:37اس ہستی کی طرف سے ہے
08:39جسے ہر چیز کا ہر حقیقت کا علم ہے
08:41اس لیے اس میں جو کہا گیا ہے
08:44وہ اٹل حقیقت ہے
08:45اب کوئی اپنی کم علمی سے
08:47یا زد کی وجہ سے شک کرے
08:49تو وہ اس کی مرضی
08:50ورنہ اس کتاب میں فی نفسے
08:52اپنے آپ میں شک کی کوئی جگہ نہیں ہے
08:55لیکن فوراں ہی آگے کہا گیا
08:57ہدایت ہے پریزگاروں کے لیے
09:01یہاں سوال پیدا ہوتا ہے
09:03کہ کیا یہ کتاب سب انسانوں کے لیے
09:05ہدایت نہیں ہے
09:05صرف متقین کے لیے کیوں کہا
09:07جی یہ نکتہ بہت اہم ہے
09:09دیکھیں قرآن بلا شبہ
09:11تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے
09:13ہے ہی سب کے لیے
09:14لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے
09:17اس کی روشنی قبول کرنے کے لیے
09:19انسان کے اندر کچھ بنیادی باتیں
09:21کچھ صفات ہونی چاہیے
09:23پہلی اور سب سے بنیادی شرط
09:25تقویٰ ہے
09:26تقویٰ کا مطلب صرف
09:28ڈرنا یا پرہیزگاری نہیں ہے
09:29اس کا اصل مطلب ہے
09:31بچنے کی خواہش
09:32ذمہ داری کا احساس
09:34اچھا
09:35یعنی انسان کے دل میں یہ طلب ہو
09:38کہ میں برائی سے بچوں
09:39اچھائی کو اختیار کروں
09:41وہ حق اور باطل میں فرق کرنا چاہتا ہو
09:44اور حق بات سامنے آئے
09:46تو اسے ماننے کو تیار ہو
09:47اب جو لوگ اس بنیادی طلب سے ہی خالی ہیں
09:51جنہیں فکر ہی نہیں کہ کیا صحیح ہے
09:52کیا غلط
09:53وہ قرآن سے رہنمائی کیسے لیں گے
09:55تو گویا ہدایت پانے کے لیے
09:57کم از کم ہدایت کی طلب
09:59اور نیت کا ٹھیک ہونا ضروری ہے
10:01یعنی متقین سے مراد
10:04وہ وگ ہیں
10:04جو پہلے سے ہی کامل پرہزگار ہیں
10:07ایسا ہے کیا
10:07نہیں نہیں
10:08یہاں متقین کا مطلب یہ نہیں
10:10کہ جو پہلے سے کامل پرہزگار بن چکے ہیں
10:13بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں
10:15جن میں تقوی کی صفت پائی جاتی ہے
10:17صفت
10:18جی
10:18یعنی وہ انجام سے ڈر کر
10:20غلط راستے سے بچنا چاہتے ہیں
10:22اور صحیح راستہ اپنانے کی خواہش رکھتے ہیں
10:25یہ سمجھیں کہ ہدایت حاصل کرنے کی یہ پہلی شرط ہے
10:29اچھا
10:29تو یہ وہی پہلی شرط
10:31اس رکو میں متقین کی مزید کیا صفات بتائی گئی ہیں
10:35جن کی وجہ سے وہ ہدایت پاتے ہیں
10:36جی
10:37تقوی کے بعد جو صفات گنوائی گئی ہیں
10:40وہ دراصل اسی رویے کا
10:42اسی خواہش کا عملی اظہار ہے
10:44دوسرے صفت ہے
10:46یؤمنونہ بالغیب
10:48وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں
10:51یعنی ان حقیقتوں کو مانتے ہیں
10:53جو ہمیں اپنی آنکھوں
10:55کانوں سے براہ راست معلوم نہیں ہو سکتی
10:58جیسے
10:59اللہ کی ذات
11:00اس کی صفات
11:01فرشتے
11:02وحی جنت
11:02دوزک وغیرہ
11:04وہ صرف اس لیے انکار نہیں کر دیتے
11:06کہ جی ہمیں نظر نہیں آتی
11:08بلکہ نبی نے جو خبر دی ہے
11:11اس پر بھروسہ کرتے ہیں
11:12جو آدمی ہر چیز کو دیکھنے
11:15یا سائنس سے پرکنے کی شرط لگائے گا
11:17وہ تو اس کتاب سے فیض نہیں اٹھا سکتا
11:20تیسری صفت
11:21وَيُقِيمُونَ الصَّلَاحِ
11:23اور نماز قائم کرتے ہیں
11:25اب یہ صرف مان لینے سے آگے عملی قدم ہے
11:28ایمان لانے کے فوراں بعد
11:30پہلا عملی حکم نماز کا ہوتا ہے
11:33اقامتِ صلاة کا کیا مطلب ہے؟
11:35صرف نماز پڑھ لینا؟
11:36نہیں
11:37اقامتِ صلاة کا مطلب صرف
11:39اکیلے نماز پڑھ لینا نہیں ہے
11:41بلکہ باقاعدہ احتمام سے
11:43نظام کے ساتھ نماز کو قائم کرنا ہے
11:46اس میں اس کا اجتماعی پہلو
11:48یعنی مل کر جماعت سے پڑھنا
11:50یہ بھی شامل ہے
11:51اچھا
11:52اور چوتھی صفت؟
11:53چوتھی صفت ہے
11:54وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ
11:57اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے
12:00اس میں سے خرچ کرتے ہیں
12:01یعنی وہ مال سے چپٹے ہوئے نہیں رہتے
12:04تنگ دل نہیں ہوتے
12:05بلکہ اللہ نے جو نعمتیں دیں ہیں
12:07ان میں سے اس کی راہ میں بھی خرچ کرتے ہیں
12:09اور اللہ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے بھی خرچ کرنے کو تیار رہتے ہیں
12:14یہ قربانی اور عصار کا جذبہ دکھاتا ہے
12:17پانچوی صفت جو ہے وہ پچھلی اسمانی کتابوں سے متعلق لگ رہی ہے
12:21جی ہاں پانچوی صفت ہے
12:23وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَائِكَ وَمَا أُنزِلَ مِنْ قَبْلِكَ
12:28وہ اس کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ پر نازل ہوئی
12:31یعنی قرآن
12:32اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی تھی
12:36مطلب یہ کہ وہ ہدایتِ الٰہی کے تسلسل کو مانتے ہیں
12:40وہ کسی قوم یا نسل کے تاثب میں پڑھ کر صرف اپنی ہی کتاب کو پکڑ کر نہیں بیٹھ جاتے
12:45بلکہ مانتے ہیں کہ تمام انبیاء جو بنیادی تعلیم لائے تھے وہ سب سچی تھی
12:50جو لوگ وحی کی ضرورت ہی نہیں مانتے
12:53یا صرف اپنے باپ دادا کی باتوں کو مانتے ہیں
12:56وہ قرآن سے ہدایت کیسے پائیں گے
12:58اور آخری چھٹی صفت
13:00اور بہت ہی جامع صفت ہے
13:02وَبِالْآخِرَتِهُمْ يُوْقِنُونَ
13:06اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں
13:08یہاں یقین کا لفظ بڑا اہم ہے
13:11آخرت صرف خیال نہیں ہے
13:14بلکہ ایک پورا نظریہ حیات ہے
13:17کہ دنیا کی زندگی بس امتحان ہے
13:20آرزی ہے
13:21انسان یہاں جو چاہے کرنے کے لئے آزاد نہیں
13:25وہ اپنے کاموں کے لئے جواب دے ہے
13:27مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا
13:31حساب ہوگا
13:32اور پھر کاموں کے مطابق
13:34ہمیشہ کی جزا یا سزا ملے گی
13:36صحیح
13:37اصل کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ وہیں ہونا ہے
13:40جس شخص کو اس بات پر یقین نہ ہو
13:43وہ کبھی بھی قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر
13:47خاص طور پر جہاں قربانی دینی پڑے
13:49وہاں ثابت قدم نہیں رہ سکتا
13:52کیونکہ اس کی نظر تو بس دنیا کے نفع نقصان تک ہی رہے گی
13:55یہ چھے صفات تو گویا ان لوگوں کی پہچان ہے
13:59جو ہدایت قبول کرتے ہیں
14:01لیکن ان کا کیا ہوتا ہے
14:04جو ان باتوں کو نہیں مانتے
14:06جو انکار کر دیتے ہیں
14:08اگلی آیات یعنی چھے اور ساتھ میں
14:11ان کے دلوں اور کانوں پر موہر لگنے کی بات ہے
14:14یہ تو کافی سخت بات لگتی ہے
14:17اختیار کر لیا
14:18یعنی ان بنیادی سچائیوں کو جان بوجھ کر رد کر دیا
14:22اب ان کے لیے برابر ہے
14:23آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں
14:25وہ ایمان نہیں لائیں گے
14:27اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر موہر لگا دی ہے
14:30اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے
14:33اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے
14:35یہاں موہر لگنے کا کیا مطلب ہے
14:37کیا اس کا مطلب یہ ہے
14:39کہ اللہ نے پہلے سے ہی تیہ کر دیا ہے
14:41کہ کچھ لوگ ایمان لا ہی نہیں سکتے
14:43تقدیر کا جبر
14:44نہیں نہیں
14:45اس موہر کو تقدیر کے جبر کے معنے میں لینا
14:48بلکل ٹھیک نہیں ہے
14:50مفصرین نے اس کی وضاحت کی ہے
14:52کہ یہ موہر اللہ تعالیٰ شروع میں ہی نہیں لگا دیتا
14:55کہ کوئی ایمان نہ لا سکے
14:57بلکہ یہ ان لوگوں کے
14:59اپنے روئے اور انتخاب
15:01کا نتیجہ ہوتی ہے
15:02جب کوئی شخص جان بوجھ کر
15:05حق کو رد کرتا ہے
15:07دلیلیں سنتا ہے
15:09پھر بھی انکار پر عڑا رہتا ہے
15:11زد کرتا ہے
15:12ہڈ دھرمی دکھاتا ہے
15:14تو آہستہ ہستہ اس کے دل و دماغ
15:16حق بات کو قبول کرنے کی سلاحیت ہی
15:19کھو دیتے ہیں
15:19اس کی مثال ایسے سمجھیں
15:21جیسے جسم کا کوئی حصہ استعمال نہ کریں
15:24تو وہ بیکار ہو جاتا ہے
15:26یہ ان کے مسلسل انکار کی سزا ہے
15:29اس کا لازمی نتیجہ ہے
15:31کہ ان کے دل ہدایت کے لیے
15:33سخت ہو جاتے ہیں
15:34کان حق بات سننے کو تیار نہیں رہتے
15:37اور آنکھیں سچائی کو دیکھنے سے
15:39انکار کر دیتی ہیں
15:40یہ ان کے اپنے عمل کی سزا ہے
15:43جو انہیں مزید ہدایت سے دور کر دیتی ہے
15:45تو خلاصہ یہ ہوا
15:47کہ صورت البکرہ کو سمجھنے کے لیے
15:49مدینہ کا وہ پس منظر
15:51خاص طور پر یہودیوں سے جو مقالمہ تھا
15:54اور نئی ریاست بننے کے جو چیلنجز تھے
15:57انہیں ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے
15:59اور قرآن شروع میں ہی
16:01یہ بالکل واضح کر دیتا ہے
16:03کہ اگرچہ یہ کتاب سراسر حق ہے
16:05ہدایت ہے
16:06لیکن اس سے اصل معنوں میں فائدہ
16:08وہی اٹھا سکتا ہے
16:09جس میں کچھ بنیادی صفات ہوں
16:11تقویٰ ہو
16:12خیب پر ایمان ہو
16:14نماز قائم کرنے کا جذبہ ہو
16:16اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حوصلہ ہو
16:18تمام آسمانی کتابوں کو مانتا ہو
16:21اور آخرت پر کامل یقین رکھتا ہو
16:23بالکل درست فرمایا آپ نے
16:25اور آخر میں ایک بات پر غور کرنے کی دعوت دینا چاہوں گی
16:29یہ جو صفات گنوائی گئی ہیں نا
16:31تقویٰ، ایمانو بالغیب، اقامت سلات، انفاق
16:34تمام کتب پر ایمان
16:36اور آخرت پر یقین
16:38کیا یہ صرف انفرادی نجات کے لیے ہی ضروری تھی
16:41اگر ہم مدینہ کے اس ابتدائی دور کے حالات کو دیکھیں
16:44تو یہی وہ صفات تھی
16:45جن کی اس بالکل نئی مسلم کمیونٹی کو
16:48اجتماعی طور پر زندہ رہنے
16:50اور کامیاب ہونے کے لیے بھی سخت ضرورت تھی
16:52اچھا؟ کیسے؟
16:54دیکھیں، تقویٰ انہیں صحیح فیصلے کرنے میں مدد دیتا
16:57ایمان بالغیب انہیں اللہ کی مدد پر بھروسہ سکھاتا
17:01نماز انہیں نظم و ضبط اور اتحاد دیتی
17:04انفاق ان میں عیسار اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا جذبہ پیدا کرتا
17:09تمام کتابوں پر ایمان ان کے دعوے کی سچائی اور عالمی گیریت کو ثابت کرتا
17:14اور آخرت پر یقین
17:16وہ انہیں ہر طرح کی قربانی دینے
17:18مشکلات پر صبر کرنے
17:20اور باطل نظام کو چیلنج کرنے کے لیے
17:23وہ غیر معمولی حمت اور حوصلہ دیتا
17:25جس کے بغیر وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے تھے
17:28یہ اصول آج بھی ہمارے لیے اتنے ہی اہم ہے
17:33ہمیں سوچنا چاہیے کہ یہ صفات آج ہماری انفرادی زندگیوں میں
17:37اور ہماری اجتماعی وندگی میں کس حد تک موجود ہیں
17:41اور ہم انہیں کیسے مزید بہتر بنا سکتے ہیں
17:44کیسے پروان چرہا سکتے ہیں
Comments

Recommended