00:00I'udhu bil Lahi min ashshaytani r интересim bismillahirrahmanirrahim
00:06Moussiz Samaein, Assalamu alaykum wa rahmatullahi wa barakatuhu
00:12Mea ora op is wakit Kyo-Ti-Vi ke maroof programe
00:17Shani Mustafa me rihmat-e-Mustafa ke anwane ke saathe mechta meh haj ka insan
00:24digital is
00:27hyper connected
00:29but
00:31with the side of
00:32the two
00:33and the other
00:34and the other
00:35it is
00:35to be a
00:39torment
00:40that
00:40it will be
00:43and the
00:43and the
00:45and the
00:45and the
00:46that
00:48that
00:48This is the word of God.
01:21that he has a respect for his
01:26сãoary مخلوقات کسی نہ کسی انداز میں نبی پاکﷺ کی اس رحمت کا حض
01:33وصول کرتی ہیں حضرت جامی علی رحمہ نے عیسائے مبارکہ کا ترجمہ
01:38اپنے انداز میں کیا تھا کہ رحمت حق برد و عالم زی محمد پیداست
01:45حرق جوہد کرم ازدرہو پیداست کہ جس کسی کو بھی اللہ تعالیٰ کی
01:52رحمت کی تلاش ہے تو وہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت
01:57کو تلاش کرے اور اسے یہی سے ظہور رحمت الہی ملے گی
02:03محضرت سامعین قرآن مجید فرقان حمید کی عیساء مبارکہ کی تحت
02:10نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اپنی حیثیت رحمت
02:16کو یوں ذکر کیا کہ میں تمہارے پاس ایک حدیہ کی ہوئی رحمت ہوں
02:26اس تناظر میں علماء سیر نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت
02:33کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے پہلا رحمت معلہ رحمت معلہ سے
02:41مراد کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ
02:46تعلق اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آپ کی رحمت کی وسط اور
02:51امت کے لیے جو جذبہ ترہم ہے اس کو اس کے تحت ذکر کیا گیا ہے
02:58قرآن مجید فرقان حمید میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
03:02یہ شان بیان کی گئی
03:03یا ایہا النبی انہا ارسلناکا شاہدا و مبشرا و نظیرا و دائیا
03:11الاللہ بی ازنی ہی
03:15دائیا الاللہ بی ازنی ہی کا مفہوم یہ ہے
03:18کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اللہ ہی کی اجازت سے بلانے والے ہیں
03:23سب سے بڑی رحمت انسانیت کے لیے یہی ہے
03:28کہ اسے معرفت خداوندی میسر آ جائے
03:31اور یہ معرفت خداوندی یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
03:36مقاصد بیست میں سے ایک مقصد ہے
03:41جو کہ امت کے لیے ایک عظیم قسم کی رحمت ہے
03:45اور ساتھ ہی ساتھ دوسری جگہ
03:47نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وص بھی بیان کیا گیا
03:52لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِمَا عَنِتْتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَعُوفُ الرَّحِيمِ
04:04نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
04:08اعصاف حمیدہ کو اس آئے مبارکہ میں
04:11کبھی رعوف سے کبھی رحیم سے
04:14کبھی حریص علیکم کے الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا
04:19علاماء فرماتے ہیں
04:21کہ یہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو جو وصف دیئے گئے ہیں
04:25اس میں صفت ترحم کو رحیم کے تحت ذکر کیا گیا
04:29رعوف کے تحت ذکر کیا گیا
04:32حریص علیکم کے تحت ذکر کیا گیا
04:35یعنی امت کا درد نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب میں ڈالا گیا
04:40یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
04:44اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کرتے ہیں
04:47تو صرف غرض اللہ تعالیٰ کی رضا نہیں ہے
04:51بلکہ امت کی نجات ہے
04:53درد امت ہر موقع پر یہ دعا زبان پر لے آتا ہے
04:58یا ربی امتی امتی
05:02یہاں تک کہ قیامت کا دن نفسا نفسی کا عالم
05:06سب لوگ ایک دوسرے کی طرف دوڑ باگ کر رہے ہوں گے
05:12اور کوئی سایہ کوئی رحمت
05:14کوئی شفقت کوئی سفارش تلاش کر رہا ہوگا
05:17اور سب جس دروازے پر جائیں گے
05:20تو نفسی نفسی کی پکار ہوگی
05:23ازہبو الہ غیری کی پکار ہوگی
05:26یہاں تک کہ مخلوق نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو جائے گی
05:32اور وہاں بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرمائیں گے
05:36رحمت رسول پورے جوبن پر ہوگی
05:39اور فرمائیں گے
05:40انا لہا
05:43میں تمہارے لیے ہوں
05:45میں تمہارے لیے ہوں
05:46اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
05:48امت کے لیے سر سجدے میں رکھیں گے
05:51اپنی چشم ہائے مبارک سے آنسو بہائیں گے
05:54پروردیگار عالم کی طرف سے
05:56ازنائے گا
05:58عرفہ را سکا
05:59سل
06:00توتہ
06:01اشفہ
06:02تشفہ
06:03اپنا سر انور اٹھائیے
06:05مانگئے کیا مانگتے ہیں
06:07آپ سفارش کیجئے
06:09اور آپ کی سفارش کو آج قبول کیا جائے گا
06:13نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر
06:15اگلے الفاظ وہاں بھی یہی ہوں گے
06:18درد امت سے
06:19اپنی رحمت کے حسار میں لینے کے لیے
06:22یا ربی
06:23امتی
06:24امتی
06:25اور اللہ تعالیٰ
06:27آپ کی امت کے بارے میں
06:28ضرور آپ کو رازی فرمائے گا
06:30دوسری جہد
06:31رحمت معل انسان
06:34رحمت
06:35یہ صرف جذبہ نہیں ہے
06:36ایموشنز نہیں ہے
06:38بلکہ یہ لائف سٹائل ہے
06:39طرز زندگی ہے
06:41اور طرز زندگی میں
06:43انسان کی جو ڈیلنگز ہوتی ہیں
06:45جو تعلقات ہوتے ہیں
06:46وہ صرف اور صرف
06:48اپنوں سے نہیں ہوتے
06:49وہ پرائےوں سے بھی ہوتے ہیں
06:51دوست ہی اس کی زندگی میں نہیں آتے
06:54بلکہ دشمن بھی آتے ہیں
06:56نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
06:58آپ کا رویہ
07:00بیہیوئر
07:00ایکٹیو موڈ
07:02اور ری ایکٹیو موڈ
07:03دونوں میں
07:04ترہم کے جذبات سے بڑا ہوا ہے
07:06اپنوں کی بات آتی ہے
07:08تو کیا فرماتے ہیں
07:09مَلْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ
07:12کہ جو رحم نہیں کرتا
07:14اس پر رحم نہیں کیا جاتا
07:16ارشاد فرماتے ہیں
07:17الرَّاحِمُ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَان
07:20جو رحم کرنے والا ہے
07:22اللہ اس پر رحم فرمانے والا ہے
07:25یہی وجہ ہے
07:26کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
07:28کی رحمت کا حصہ
07:29بچے آئے تو وہ بھی پاتے ہیں
07:31جوان آئے تو وہ بھی پاتے ہیں
07:33بوڑے ہیں تو وہ بھی پاتے ہیں
07:35ہم سائے ہیں تو وہ بھی پاتے ہیں
07:37اپنے ہلکے میں آنے والے
07:39اپنے گھر والے ہیں
07:40تو وہ بھی پاتے ہیں
07:42نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
07:44نے ارشاد فرمایا
07:45خیرکم خیرکم لی اہلی
07:47وَآنَا خیرکم لی اہلی
07:50تم میں سے بہتر وہ ہے
07:52جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہے
07:54اور سنو بطور موڈل
07:56میں اپنے گھر والوں کے لیے
07:58سب سے بہتر ہوں
07:59نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام
08:02جناب انس بن مالک
08:04اس کی گواہی دیتے ہیں
08:05دس سال خدمت رسول پر
08:08معمور ہیں اور کہتے ہیں
08:10میں نے کبھی نبی پاک
08:12صلی اللہ علیہ وسلم کی
08:13زبان اقدس سے اپنے لئے
08:16ڈانڈپٹ نہیں سنی اور
08:17گھر کی کیفیات یہ ہے
08:19کہ کسی ازواج رسول کو
08:21نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے
08:23کبھی ٹیز بھی نہیں کیا
08:25دلازاری کبھی نہیں کی
08:27تیسرا پہلو کے علماء فرماتے ہیں
08:30اسی تناظر میں
08:31کہ دشمن جب مقابلے میں آئیں
08:34تو پھر جذبہ ترحوم
08:36دکھانا ایک مشکل کام ہوتا ہے
08:38لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
08:40کی زندگی میں دیکھئے
08:41کہ مشرقین ستاتے ہیں
08:43تو عرض کیا جاتا ہے حضور ان کے لئے
08:46دعا جلال فرمائیے
08:47تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں
08:50انما بوئست رحمتن
08:52مجھے تو رحمت بنا کر
08:54مبوس کیا گیا ہے
08:55طائف کی وادیاں ہیں
08:57مصطفیٰ کریم پر
08:59پتھر بڑھ سائے جاتے ہیں
09:01لیکن جواب میں کیا
09:03ارز کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
09:05یا اللہ میری قوم کو ہدایت دے دے
09:08یہ میرے بارے میں
09:09صحیح آگہی نہیں رکھتے
09:11اور وہ لوگ کے جو حسار
09:13بنا کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
09:16کی جان لینے پر اترے ہوئے ہیں
09:18تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
09:21اس وقت بھی ان کی
09:22امانتوں کی حفاظت کر رہے ہیں
09:24اور فتح مکہ کا موقع
09:26کس سے پنہا ہے
09:28کہ سب اس وقت خوف سے لرز رہے ہیں
09:31لیکن اس موقع پر بھی
09:33نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
09:34جان کے دشمنوں کو
09:36امان ایک جملے میں دیتے ہیں
09:38اور فرماتے ہیں
09:40اِذْحَبُوا اَنْتُمُ تُلَقَا
09:42اس پر علماء سیر نے کہا
09:44کہ تاریخ میں فاتح تو بہت ملتے ہیں
09:47مگر معاف کرنے والے فاتح
09:49بہت کم ہوئے ہیں
09:51طاقت یہ انتقام کا موقع دیتی ہے
09:54مگر رحمت معافی کا راستہ چنتی ہے
09:57اور اس معافی کے راستے نے
09:59اس وقت کے لوگوں کے دلوں کو
10:02مسخر کر لیا
10:03اور قیامت تک رحمتِ مصطفیٰ کریم سے
10:06حس پانے والے
10:08جب معافی کے راستوں کو اختیار کریں گے
10:11تو لوگوں کے دلوں کو
10:13مسخر کرنے کا
10:14یہ بہترین وظیفہ ہمیشہ ان کے
10:16ہاتھ میں رہے گا
10:18تیسرا پہلو
10:19کہ رحمت مال قائنات
10:22نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
10:24جانوروں اور محول کے لیے بھی رحمت ہے
10:27اس وقت
10:30کلائمیٹ چینج کے چیلنجز کا ہمیں سامنا ہے
10:33محولیاتی علودگی بھی ہے
10:35اور اس کی وجہ سے
10:37بہت سارے جانوروں کے گھر تباہ ہو رہے ہیں
10:40نسلیں ناپید ہو رہی ہیں
10:42نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اینیمل کے ایتھک
10:46ان کو بھی بیان فرمایا
10:48اور ساتھ ہی ساتھ ان کے ساتھ کس طرح ٹریٹ کرنا ہے
10:52اس کے بارے میں بھی تربیت فرمائی
10:54جناب عبداللہ بن مسود
10:56رضی اللہ تعالیٰ انہوں فرماتے ہیں
10:58کہ ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا
10:59تو وہاں چڑیا کے دو بچے تھے
11:02صحابہ اکرام نے ان بچوں کو اٹھا لیا
11:04تھوڑی دیر گزری
11:05تو ان بچوں کی ماں آگئی
11:07اور جب وہ ٹیز ہوئی
11:08اسے دکھ پہنچا
11:09تو وہ ہمارے سروں پہ آگ کر پھڑ پھڑانے لگی
11:13نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
11:15جو سب کی بولیاں سمجھتے ہیں
11:18رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
11:19نے بڑے جلال بڑے انداز میں کہا
11:22من فجا حازی بی ولدیہ
11:25کہ اس چڑیا کو
11:27اس کے بچوں کی وجہ سے
11:28کس نے تکلیف دی ہے
11:30اور پھر ساتھ ارشاد فرمایا
11:32ردو ولدہ
11:34اس کے بچے اس کو واپس لوٹا دو
11:37یہ اسلام کی سپیشلٹی ہے
11:39نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی
11:42رحمت کی وسط دیکھئے
11:44کہ دنیا میں کوئی مذہب ایسا نہیں ہے
11:47کہ جس نے جانوروں کے حقوق
11:49یہاں تک کہ ان کے ساتھ جو بیہیوئر ہے
11:52اس کو اس انداز میں بیان کیا ہو
11:54ہم صرف یہ سمجھتے ہیں
11:56کہ انسان کی ماں
11:58اس کی محافظت
11:59اور اس کی ممتہ کی حفاظت بہت ضروری ہوتی ہے
12:02لیکن جذبہ ترحم نبوی
12:05یہ بیان کرتا ہے
12:06کہ ہیوانی ممتہ کے بھی
12:08پر بھی جذبہ ترحم دکھایا جاتا ہے
12:11اور اس کی حفاظت بھی بہت ضروری ہوتی ہے
12:14جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
12:17نے انہیں یہ حکم دیا
12:18کہ اس کے بچوں کو واپس کرو
12:20چوتھا اور آخری پہلو
12:22یہ رحمت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
12:25کے تناظر میں
12:26آج کے انسان کو دیکھنا ہے
12:28ہمیں یہ دیکھنا ہے
12:30کہ آج رحمت مصطفی کا عکس
12:33امت مصطفی میں کتنا دکھائی دیتا ہے
12:35رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
12:37فرماتے ہیں
12:38خیر الناسی من ينفع الناس
12:41لوگوں میں سے بہتر وہ ہے
12:43جو لوگوں کے لیے نفع بخش ہوتا ہے
12:46انہیں ٹیز نہیں کرتا
12:48انہیں چیٹ نہیں کرتا
12:49انہیں ڈیسیو نہیں کرتا
12:51انہیں نقصان نہیں پہنچاتا
12:52مجھے اور آپ کو
12:54اس تناظر میں یہ دیکھنا ہے
12:56کہ بحثیت والد میری اولاد
12:59میرے خوف کے سائے میں پڑھ رہی ہے
13:01یا میری رحمت کے سائے میں پڑھ رہی ہے
13:03بحثیت کسی بھی پرفیشن سے
13:06ہمارا تعلق ہو
13:07بحثیت استاذ
13:08مجھے یہ دیکھنا ہے
13:09کہ میرا علم خوف کے سائے میں منتقل ہو رہا ہے
13:13یا شفقت و رحمت کے سائے میں منتقل ہو رہا ہے
13:17بحثیت تاجر
13:18مجھے یہ دیکھنا ہے
13:20کہ میری دیانت اور امانت
13:23وہ صفتِ رحمت کے ساتھ غالب ہے
13:27یا لوگ میری صفتِ رحمت سے محروم ہو کر
13:32زبان کی سختی اور دیانت و آمانت سے محروم ہیں
13:36ہمیں جمعی اعتبار سے اپنا جائزہ لینا ہے
13:40اور خصوصاً اس دور میں
13:42کہ جب سوشل میڈیا
13:44ہر کسی کے پاس
13:46ایک سوشل پریٹ فارم کے طور پر موجود ہے
13:49یہاں تلخیاں بڑھ رہی ہیں
13:51دل کٹ رہے ہیں
13:53मुझे और आपको देखना है कि सोशल मीडिया पोस्ट वो दिलों को जोड रही है या दिलों को तोड रही
14:00है अगर जवाब नफी में है तो फिर बात यही है हमने रहमत को पढ़ा तो है लेकिन हमने रहमत
14:09को अपनी जिन्दगी पर नाफिज नहीं किया आज जरूरत इस समर की
14:14है कि नभी पाक सलल्लाहु अलिह वसल्म की सिफ़त रहमत को ना सिर्फ पढ़ा जाए बलके उस सिफ़त रहमत के
14:23साए में अपनी जिन्दगी को रहमत नभवी के उस हिसार में लाकर खुबसूरत किया जाए ताके इन्सानियत के लिए नफ़ा
14:33बखश भी हो सके रसूलुलाह
14:36की जिन्दगी पर और इस वस्फ रहमत पर कुरान मजीद फुरकान हमीत ने क्या खुबसूरत अंदास में कंक्लूट करते हुए
14:47बयान किया
14:47वमा अरसलनाका इल्ला रहमत लिलालमीन वमा अलैना इल्ला बलागुल्मूबीन
Comments