Tableegh-e-Islam aur Buzurgan-e-Deen
Watch All Episodes here ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidTxmyU0ouHEzuPSW694XN7
Host: Safdar Ali Mohsin
Guest: Dr. Mazhar Fareed, Dr. Mufti Irfanullah Saifi, Tariq Masood
#aryqtv #TableegheIslamaurBuzurganeDeenn #islam
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All Episodes here ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XidTxmyU0ouHEzuPSW694XN7
Host: Safdar Ali Mohsin
Guest: Dr. Mazhar Fareed, Dr. Mufti Irfanullah Saifi, Tariq Masood
#aryqtv #TableegheIslamaurBuzurganeDeenn #islam
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00।
00:30He did not give up his identity and his husband and her次 of his own
00:58Bersaludah, Bersaludah, and Baran.
01:01Then, the Bible, 34, and 35, 35, 35, 35, 35, 36, 36, 37, 36, 37, 38, 37, 39, 39, 39, 39, 39, 40, 39, 39, 69.
01:12Goya حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ اسلام کے صدقے میں
01:17آج جو بھی ان کے نتیجے میں مسلمان ہوا ایمان کے دائرے میں داخل ہوا
01:21اس پر بھی اللہ رب العزت کے فرامین اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو پہنچانا
01:28چاہے وہ ایک ٹکڑے کی صورت میں کیوں نہ ہو وہ ضروری ہے
01:31Goya ہر فرد کو اپنی ذات میں ایک مبلغ قرار دیا گیا ہے
01:35چھوٹا سا ٹکڑا چھوٹی سی آیت چھوٹا سا حصہ بھی ہو
01:38اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے منتقل کریں
01:41بزرگان دین نے اولیاء اللہ نے اللہ کے نیک بندوں نے
01:45اور ان قنیم نفوس قدسیہ نے یہ کام اپنی اپنی حیات میں
01:49بڑے احسن طریقے سے توازوں سے حسن سے سرانجام دیا
01:53ہمارے اس پروگرام میں انہی بزرگان دین کو خراج محبت خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے
01:58اور بالخصوص یہ مہینہ کیونکہ ربیو الثانی کا حضور غوث السکلین
02:03سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی بابرکت ذات سے منصوب ہے
02:09تو انہی کے نقوش پا پر چلتے ہوئے جتنے اولیاء نے
02:12اپنے منصف کی انجام دہی کی
02:14ہم سب ان کے خدمات کا تذکرہ کرنے کا شرف پاتے ہیں
02:18آج کے چوتھے پروگرام میں
02:20آج کے چوتھے پروگرام میں بڑھتے ہیں
02:23اپنے معزز بہمانوں کے خیر مقدم کی جانب
02:25آج ہمیں ایک دفعہ پھر شرفیاب کیا ہے
02:28ایک بڑی کریم شخصیت کے کریم بیٹے نے
02:31ابو نصر حضرت منظور عمد شاہ صاحب
02:34رحمت اللہ تعالیٰ علیہ کی ذات گرامی
02:37کسی تعرف کی محتاج نہیں ہے
02:39ساہیوال کی جامعہ فریدیہ کے محتمم ہونے کی حیثیت سے
02:42انہوں نے اس پورے خطے میں
02:44اسلام کے نور کی روشنی جس احسن انداز میں پھیلائی
02:48وہ انہی کا حصہ تھا
02:49انہی کے لخت جگر نور نظر
02:51ہمارے مقدوم محترم
02:53جنابِ ڈاکٹر مظہر فرید صاحب
02:55دامت برکاتم علالیہ
02:56آج کی نشست میں ہمارے مہمان ٹھہرے ہیں
02:58سلام علیکم
02:59داکسر قبلہ خوش آمدید بھی
03:02حدیعہ تشکر بھی
03:04اور سفر کر کے تشریف لانے پر خصوصی
03:06آپ کے خدمت میں تشکر
03:07میرے دوسرے مہمان بھی کسی تعرف کے محتاج نہیں ہے
03:11سینکڑوں نشستوں میں ہمیں ان کی
03:13مائیت رفاقت صحبت نصیب رہی ہے
03:15بڑے حلم کے ساتھ
03:16توازوں کے ساتھ
03:23گیریین یونیورسٹی لاہور کے
03:25شعبہ علوم اسلامیہ کی بڑی وقی شخصیت
03:27جنابِ ڈاکٹر عرفان اللہ سیفی
03:29السلام علیکم
03:30داکسر سب خوش آمدید
03:32آپ کا بھی بہت شکریہ
03:33بزمِ غوثِ آزم میں آپ کا خیر مکتب
03:36ساہیوال سے ہی
03:38عرضِ وطن کے بہت خوشگلو خوشنوا
03:40سنہ خانِ رسول مرحبا
03:42یا مصطفیٰ کے ہمارے میگا ایونٹ
03:45کے ذریعے عزت توقیر اور شہرت پانے والے
03:47حافظ اکاری
03:48جنابِ تارک مسعود صاحب
03:51آج ہمارے ناتخانی کے حوالے سے
03:53مہمان ہیں
03:53بہت شکریہ تارک بھئی تشریف آوری کا
03:57آپ کے لئے بڑے شرف کی بات ہے
03:59کہ آج اپنے شاکھ کریم کے سامنے بیٹھ کر
04:01جامعہ فریدیہ کی قطالب علم
04:03کی ہونے کی ایسیت سے بھی اپنا حصہ اور
04:05اپنی نوکری پیش کریں گے آپ کی ناتشریف سے
04:07ہمیں آگے پڑھنا ہے بسم اللہ فرمائے
04:08ہر طرف ہے خوشی
04:20مدینے میں ہر طرف ہے خوشی
04:32مدینے میں کب ہے کوئی دکھی
04:45مدینے میں
04:54اور جس کی باتی نہ تھی
05:03زمانے میں
05:10جس کی باتی نہ تھی
05:20زمانے میں
05:26بات اس کی بنی
05:31مدینے میں
05:35بات اس کی بنی
05:42مدینے میں
05:46اور مجھ سے بچھڑی ہوئی
05:53تھی برسوں سے
06:00زندگی آملے مدینے میں
06:08زندگی آملے مدینے میں
06:14زندگی آملے مدینے میں
06:23مجھ سے بچھڑی ہوئی
06:29تھی برسوں سے
06:35زندگی آملے مدینے میں
06:46زندگی آملے مدینے میں
06:50اُن کے صدقے
06:53ہر ایک دعا
06:57میری
07:01میرے رب نے سنی
07:07مدینے میں
07:13ہر طرف ہے خوش مدینے میں
07:26سبحان اللہ
07:27سبحان اللہ
07:28طارق بھئی کیا خوبصورت انداز میں
07:30آپ نے نظرانہ عقیدت پیش کیا
07:31اللہ کریم آپ کو بہت خوشیاں دے
07:34اور نات کی برکات سے مزید نوازیں
07:36مدینہ شریف کی بات ہے
07:38ایک شیر کے حدیعہ کے ساتھ
07:39ڈاکس آب سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں
07:41سب کی بلیک شیر سماعت کے حوالے
07:43اور آفی صاحب
07:45وادیِ عشق سے
07:47رحمت کی سند چاہتے ہیں
07:49وادیِ عشق سے
07:51رحمت کی سند چاہتے ہیں
07:53اہلِ مکہ بھی مدینے میں لحد چاہتے ہیں
07:55سبحان
07:57وادیِ عشق سے رحمت کی سند چاہتے ہیں
07:59اہلِ مکہ بھی مدینے میں لحد چاہتے ہیں
08:02آئیئے
08:03تذکارِ
08:05دیارِ نور کے بعد بڑھتے ہیں
08:07آج کے موضوعِ سخن کو کھولنے کیلئے
08:09So that's why we have to do that.
08:39How do you think about this?
09:09There is no difference in any part.
09:12It's not true.
09:14If you know what you know, what you know, what you know.
09:18They can't see what they can see.
09:21Allah has got it.
09:22It's the first thing.
09:23Allah has got it.
09:25The first thing, Allah has got it.
09:27That's what we have done.
09:29The second thing.
09:31It's the second thing.
09:33It's the second thing.
09:35Say it.
09:38You are today.
09:40If you are anything, your answer to it.
09:44Don't believe it.
09:46But I have a problem.
09:49It's the same.
09:52You are there.
09:53When it comes that forever.
09:55If you can't?
09:57What's that way?
09:58That's the fact that your personal physical physicalic.
10:02Because you have a.
10:03اگر تم چاہتے ہو
10:11کوئی اماندار
10:12سب سے زیادہ پیار محبت
10:14جو میری ذات کے ساتھ ہونا چاہیے
10:16اب یہ عمل
10:17یہاں پر
10:19جو حضور کی محبت کے ساتھ ہے
10:22اس کا تقاضی یہ ہے
10:23کہ دین کو قائم کیا جائیں
10:25زیادہ زور
10:26اولیاء اکرام نے اس پر دیا
10:28دین کو قائم کرو
10:33دین کیا ہے
10:34علامہ راغی بسفران لکھتے ہیں
10:36کہ جس وقت کوئی شخص
10:47دینی معلومات پر
10:49اس ذابطہ حیات پر
10:51عمل کرتا ہے
10:52تو انسان اٹھتا ہے
10:54اور اللہ جلالہ جلالہ
10:55کے جوار میں چلا جاتا ہے
10:57اور شیخ عبداللہ دراز نے
10:59کتاب الدین میں بڑی خوبصورت دعا لکھی
11:00وہ لکھتے ہیں کہ
11:01جس وقت کوئی شخص
11:11اس قانون
11:12اس ذابطے کو
11:13اسلام کو لیتا ہے
11:14تو اس وقت
11:15اس کا تن بھی
11:16اجلا ہو جاتا ہے
11:17اس کا
11:18من بھی اجلا ہو جاتا ہے
11:20اچھا اسی بات کو لے کر
11:22وہاں پر
11:24اولیاء اعظام نے
11:26ایک کو لیا
11:26اور اس کے ساتھ
11:28اللہ جلالہ جلالہ ارشاد فرماتا ہے
11:31وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُتْ تَوْرَاتَ وَلْإِنْجِيلَ
11:35وَمَا أُنْزِلَهِمْ
11:36اگر یہ لوگ
11:38تورات کو
11:39انجیل کو
11:40نافذ کر لیتے
11:41جو اس پر رازل کیا گیا ہے
11:42تو پھر ہوتا کیا
11:43لَا أَقَالُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ عَرْجُلِهِمْ
11:46اللہ اللہ اللہ
11:47تو انہیں روزی رزق
11:48ان کی تلاش کرتا
11:50اور اسی بات کو
11:52اسی بات کو
11:54اولیاء نے
11:54صوفیاء نے
11:55عطقیاء نے
11:57اس کو اولیاء
11:58اور یہ بتایا
11:59کہ اصل میں
12:00یعنی پورے وجود پر
12:02پورے وجود پر
12:03قرآن کو نافذ کر لینا
12:05یہ انسانی زندگی کو
12:06کہاں سے کہاں لے جاتا ہے
12:08اور پھر بات یہ ہے
12:09کہ ساری چیزیں کرنے کے بعد
12:11جو انہوں نے کام کیا
12:13جذبہ عیسیٰ
12:16اور سب جذبہ عیسیٰ
12:17بہت اچھے
12:18وہ یہ ہے
12:19خود بھوکے بھی ہوں
12:23دوسروں کو پیش کرتے ہیں
12:24اس چیز نے وہ اثر کیا
12:26کہ پورے پورے معاشرہ کے اندر
12:28لوگ کھنچے چلے آئے
12:30اور یہاں تک نہیں
12:31بلکہ
12:32یہاں پر
12:33یہ ہے کہ
12:34اجتماعی حیات میں
12:35وہاں پر منظم جد و جہد
12:37اب یہاں پر جب تک نہیں ہوتی
12:40یہ پھر ریزلٹ نہیں نکلتا
12:42اور جب یہ
12:44استماعی جد و جہد
12:46نکتہ اروج تک پہنچتی ہے
12:48تو پھر بندے کا تن بھی ہجلا ہوتا ہے
12:51اور بندے کا من بھی ہجلا
12:52سبحان اللہ
12:53سبحان اللہ
12:54جنابی ڈاکٹر مظہر فرید صاحب نے
12:57بہت خوبصورت بنیاد فراہم کر دی
12:59انہوں نے بتایا
13:00کہ اروج کے کرائیٹیریاز کیا ہوتا ہے
13:02اس کے لیے تقاضے کیا ہیں
13:03جن پر عمل کرنے کے بعد
13:04قومیں اروج کی جانب بڑھتی ہیں
13:06اور جب جب مسلمانوں کو
13:07مسلم معاشرے کو اروج نصیب ہوا ہے
13:09وہ انہی کرائیٹیریاز پر
13:11عمل کر کے نصیب ہوا ہے
13:12اور جب جب
13:13ان سے ہم نے روگردانی کی ہے
13:15تو پھر چشم فلک نے
13:16ہماری خواری کے منظری دیکھے ہیں
13:18اور آج تک یہی
13:19مسئلہ ہمارے ساتھ رہا ہے
13:21اللہ کرے
13:21کہ ہمیں عمل کا رستہ نصیب ہو جائے
13:24اور انہی نقوش پاپر چلنے کی
13:26توفیق مل جائے
13:27جن کے نقش ہمارے کریم آقا
13:29علیہ السلام نے ہمارے لئے چھوڑے
13:31اور بعد کے لوگوں نے
13:32کامیابی سے ان پر چل کر
13:34اپنی منزل تک رسائی حاصل کی
13:36میں
13:36ایک وقفے کی طرف بڑھ رہا ہوں
13:39اور جنابے ڈاکٹر عرفان اللہ
13:40سیفی صاحب کی خدمت پر
13:41سوال ارز کر دیتا ہوں
13:42کہ غیر مسلموں کو
13:44بزرگان دین نے
13:45اپنی تبلیغ سے کیسے متاثر کیا
13:47مسلمانوں کے روج اور زوال کے بارے میں
13:48تو ہم نے جان لیا
13:49تو جو غیر مسلم تھے
13:50ان کو بھی بہت انسپائر کیا
13:52ہمارے سارے شیوخ اور مشایخ نے
13:54ان کی کچھ جھلکیاں
13:56ہم آپ سے چاہیں گے
13:56ڈاکٹر صاحب
13:57ایک مختصر سا وقفہ
13:58ویلکم بیک ناظرین
13:59تبلیغ اسلام اور بزرگان دین
14:01کے سلسلے کا چوتھا پروگرام
14:02داتا کی نگری لاہور سے
14:03اے آر وائکو ٹی بی پر
14:04ترتیب وار
14:05یہ سارے موضوعات
14:06آپ کی سماعتوں کے حوالے کیے جا رہے ہیں
14:08مہینہ حضور غوص السکالین
14:10الشیخ السید
14:11عبدالقادر جیلانی
14:13رضی اللہ عنہ کا ہے
14:14اولیاء کے تاجدار کا مہینہ ہے
14:17اور اسی نسبت سے
14:18ہم اولیاء اور اہلاللہ کی
14:20تعلیمات کا ذکر
14:21تبلیغ اسلام کے پہرائے میں کر رہے ہیں
14:23سوال
14:24ڈاکٹر رفان اللہ صحیفی صاحب سے
14:25ارض کیا جا چکا
14:26جواب کا ڈاکس اپ طالب
14:27بسم اللہ الرحمن الرحیم
14:29بہت شکریہ
14:30جزاکم اللہ خیرہ
14:31صفدر بھائیس میں
14:33میرا خیال ہے
14:35کہ جو بھی
14:36اہل علم ہیں
14:38اور دیانتدار اہل علم ہیں
14:40وہ
14:41اس سے کامل اتفاق کریں گے
14:44کہ ہر وہ خطہ زمین
14:45جہاں اسلام کی روشنی پھیلی ہے
14:47وہ اسلام کی روشنی
14:49نور نبوت حاصل کرنے والے
14:51ان اولیاء اکرام نے پہنچائی
14:52بڑی خوبصورت بات
14:53کسی بھی خطے میں آپ دیکھیں
14:54جو ٹکڑا آپ نے دوسرا ارشاد فرمایا
14:56کہ جو دیانتدار اہل علم
14:58وہ تو اس سے ہر صورتے اتفاق کریں
15:00آپ دیکھئے ہم چونکہ
15:02اس برے صغیر کے باسی ہیں
15:04اگر ہم اس خطے کو دیکھیں
15:05تو وہ لوگ جو آغاز میں
15:07یہاں پر سندھ میں آئے
15:09یہ اصل میں وہ تاجر تھے
15:11جو تجارت کے لیے یہاں آئے
15:13انہوں نے اپنے کردار سے
15:14اپنے اخلاق سے
15:15متفق
15:16اور
15:16اپنی طرز بودھ و باس سے
15:19لوگوں پر اثر ڈالا
15:20اور پھر ان کو
15:21اسلام کی طرف راغب کیا
15:22یہاں پر
15:24لوگوں کے
15:25فکر کو تبدیل کیا
15:26اور یہ سب سے
15:28بہت مشکل کام ہوتا ہے
15:29کسی کا نظریہ چینج کرنا
15:31اور کسی کی فکر کو تبدیل کرنا
15:33اور یہ چیزیں
15:34ان بزرگان دین نے
15:36لمحوں میں چینج کی ہیں
15:37اور آپ دیکھئے
15:38کہ کسی بزرگ کا مجھے قول
15:40یاد آ رہا ہے
15:40وہ
15:41ان سے
15:42کسی نے پوچھا
15:43کہ جناب آپ بتائیے
15:43کہ وہ بہترین
15:44تبلیغ کونسی ہے
15:46جو بہت زلدی مساثر کرتی
15:48انہوں نے کہا
15:49کہ وہ تبلیغ
15:50جس کے الفاظ کم ہوتے ہیں
15:51یعنی
15:53الفاظ کم ہوں
15:54آپ کا کردار بتائے
15:55کہ آپ جو ہے
15:56وہ واقعی اتواقیتا
15:57ایک مبلغ ہے
15:58حضرت بہت دن زکریہ
16:01ملتانی رحمت اللہ
16:02آپ کا یہی طرز عمل تھا
16:03آپ
16:03آپ کے جو جامعہ کے
16:05فارغت تحصیل ہوتے
16:06اور
16:06آپ کی تربیت سے
16:08گزرے ہوئے
16:09جو
16:09لوگ
16:10جاتے
16:11اور آپ ان کو
16:12کہیں نہ کہیں بیشتے
16:13اور ان کو جا کے کہتے
16:14کہ آپ نے وہاں جا کے
16:15کاروبار کرنا ہے
16:16دو سال تین سال
16:17کاروبار کریں
16:18پھر اس کے بعد
16:19آپ نے تبلیغ کرنی ہے
16:20تاکہ آپ
16:21لوگوں کو بتا سکیں
16:22کہ آپ کیا ہے
16:23تو
16:23سفدر بھائی
16:24یہاں پر
16:25لوگوں کی فکر کو
16:26تبدیل کیا ہے
16:27اور میں اس کی ایک
16:27مثال اگر نہ دوں
16:28تو میرا خیال ہے
16:29کہ ہمارا
16:30یہ جواب تشنہ رہ جائے گا
16:31وہ حضرت
16:32خاجہ
16:35نظام الدین
16:35اولیہ رحمت اللہ
16:36علیہ کی بارگاہ میں
16:37آنے والا
16:38ایک ہندو
16:38راج کمار
16:40ہردیو ہے
16:41جس کا ذکر
16:42نظامی بنصری کے اندر
16:44کیا گیا ہے
16:45حسن نظامی نے کیا
16:46اور ان کے بلکہ
16:47چاہل روزہ کو
16:48نظامی بنصری کا
16:49حصہ بنایا
16:49بلکل ہے
16:50وہ تو
16:50ایک ہندو تھا
16:51اور آپ کی مجلس میں آیا
16:53اور ایک عرصہ
16:54دراز تک ہندو رہا
16:55لیکن وہ لکھتا ہے
16:56کہ مجھے ایک لمحے
16:57کے لئے بھی
16:58محسوس نہیں ہوا
16:58کہ میں ان کے مذہب کا
16:59نہیں ہوں
17:00میں ہندو ہوں
17:01ان کی شفقت
17:02ان کی محبت
17:03مجھے اپنے قریب
17:04کرتی گئی
17:04کرتی گئی
17:05کرتی گئی
17:05یہاں تک
17:05کہ میں نے
17:06اسلام قبول کر لیا
17:07اور وہ پھر
17:09وہ ساری
17:10جو ہے وہ چیزیں
17:11اور تفصیلات
17:12لکھتے ہیں
17:13وہ ایک
17:14راج کمار ہردیو ہے
17:15جن کو
17:16اسلام کی توفیق ملی
17:17یہاں لاکھوں
17:18راج کمار ہردیو ہیں
17:19جو صاحب قلم نہیں تھے
17:21جو لکھ نہیں سکے
17:22لیکن ان کی زبان حال
17:23نے بتایا
17:24اس معاشرے کی
17:25فضاء نے بتایا
17:26کہ واقعہ تن
17:27وہ
17:27اسلام سے
17:28اور ان بزرگان دین
17:30کی صیرت و کردار
17:31سے متاثر ہو کر
17:32وہ دائرہ اسلام
17:33میں داخل ہوئے
17:34اب یہاں دیکھئے
17:34کہ یہاں تو
17:35اس جو خطہ کے اندر
17:37ہندووں کا غلبہ تھا
17:38اور پھر یہاں
17:39ہندووں کے غلبے میں
17:40آکے اسلام کی
17:41تبلیغ کو
17:42لوگوں کے دلوں میں
17:43پہنچانا
17:44اور اسلام کا پیغام
17:45لوگوں کے دلوں میں
17:45پہنچانا
17:47یہ کتنی جلدی
17:48ممکن ہوا
17:48اور ہزاروں نہیں
17:49لاکھوں لوگ
17:50دائرہ اسلام میں
17:51داخل ہوتے ہیں
17:51آپ حالات
17:52حضرت خاجہ موین الدین
17:53چشتی اجمیری
17:54رحمت اللہ علیہ کے
17:54حالات کو دیکھیں
17:55حضرت بابا فرید
17:56گنشکر رحمت اللہ علیہ
17:57کے حالات کو دیکھیں
17:58انہوں نے کیا کیا
17:59انہوں نے محبت
18:00اور پیار کا سبق دیا
18:01انہوں نے خانکاہیں
18:02بنائیں
18:03اور جو خانکاہیں
18:04لوگوں کے دکھوں
18:05کا مداوہ کرنے والی تھی
18:06جب ایک شودر
18:07وہ محسوس کرتا ہے
18:08کہ میرا ہندو بھائی
18:10مجھے اپنے ساتھ
18:11بٹھا کر کھانا نہیں کھلاتا
18:12لیکن ایک مسلمان
18:13میرے ساتھ بیٹھ کر
18:14کھانا کھانے میں
18:15کوئی حرج محسوس نہیں کرتا
18:17تو وہ پھر ساتھ ملتے گئے
18:18اور پھر اسلام سے
18:19متاثر ہوتے گئے
18:20اور یہ پھر
18:21یہ سارے کا سارا
18:22جو چمن ہے
18:23وہ اسلام کی
18:24خوشبو سے جو ہے
18:25موطر ہونا شروع
18:26سبحان اللہ
18:27آپ کے ایک لفظ
18:28نے مجھے بہت اٹریکٹ ہیا
18:29سارے اچھے لفظ ہوتے ہیں
18:31لیکن بہرحل
18:31کوئی سیدھا جا کے
18:32دل پہ لگ جاتا ہے
18:34وہ جس طرح آپ نے
18:35کسی کا کال نکل فرمایا
18:36نا ڈاک ساب
18:36کہ اچھی تبلیغ وہ
18:38جس میں الفاظ سب سے کم
18:39اور کردار سب سے زیادہ
18:41واصف صاحب کا
18:43ایک شیر مجھے
18:44یاد آرہا تو
18:44میں نے کہا
18:45میں آپ کے عرض کروں
18:45وہ لکھتے ہیں
18:46کہ بول عرض مدعا
18:48تقریر طولانی نہ کر
18:50بول عرض مدعا
18:52تقریر طولانی نہ کر
18:59برسگیر پاکو ہند کے
19:00خطے کو بلحسوس
19:01اپنے خطے کو ہم دیکھتے ہیں
19:03تو صوفیہ اکرام
19:04اور بزرگان دین کی
19:06جو تبلیغ خدمات ہیں
19:07وہ اپنے نکتہ
19:08یا روچ پر نظر آتی ہیں
19:09بہت زیادہ
19:10ایفرٹز یہاں پہ
19:10ہر سلسلے کے لوگوں نے کی
19:12آپ ان ساری
19:13بزرگان برسگیر پاکو ہند کی
19:16تبلیغی مسائی اور خدمات
19:17کو کیسے دیکھتے ہیں
19:18اشتر پہلے تو میں یہ ارز کرتا ہوں
19:20یہ جتنے بھی
19:23طریقت کے
19:25آپ کے پیش نظر
19:27یہ سلسلے ہیں
19:29یہ سارے کے سارے
19:32اللہ جلالہ کی بارگاہ تک
19:35رسائی حاصل کرنے
19:36پہنچنے کے ذرائع ہیں
19:37یہ درست
19:38اگریڈ
19:38اس میں کوئی اس طرف سے چلا جاتا ہے
19:41کوئی اس طرف سے چلا جاتا ہے
19:42اس میں کوئی شاکر نہیں
19:43پہلی بات تو یہ ہے
19:44اور دوسری بات یہ ہے
19:45کہ تمام سلاسل کی
19:47تعلیمات کو اگر دیکھا جائے
19:49تو تین حصوں میں
19:50ہمیں بٹی وی تقسیم نظر آتی ہیں
19:52وہ یہ ہے
19:53شریعت
19:54طریقت
19:56اور حقیقت
19:57شریعت کے اختیار کیا جاتا ہے
19:59تو
19:59تن
20:01درست ہو جاتا ہے
20:03اور پھر ظاہری
20:04حالات جو ہیں
20:06وہ بندے کے ٹھیک ہے
20:06نماز ہے
20:07روزہ ہے
20:08حاج یا زکار
20:08بلکل ٹھیک
20:09اور جس وقت
20:10طریقت آتی ہے
20:11تو اس وقت
20:12یہ انسان کے
20:14جو اندر کے
20:15خوابیدہ صلاحیتیں ہیں
20:16وہ
20:17نمدھار ہوتی ہیں
20:18نکھر آتی ہیں
20:18صبر ہے
20:19شکر ہے
20:20وہ بندے کا
20:21اللہ جللہ جلل کی بارگاہ
20:22کے اندر محبت کو پیش کرنے
20:24حضور کے ساتھ
20:24روابستگی ہے
20:25یہ ساری چیزیں
20:27اور پھر یہ ہے
20:28کہ بڑھتا بڑھتا آدمی
20:29حقیقت تک پہنچتا ہے
20:31اور پھر یہاں تک پہنچتا ہے
20:34ان تابد اللہ کاننا کترا
20:36ای لن تکن تراہو
20:38فا انہو یراکا
20:39اللہ
20:40کیا عبادت اس انداز میں کر
20:41گویا کہ
20:42تو اپنے رب کے جلووں کو تک رہا ہے
20:44اور اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا
20:46اتنا تو یقین کر لے
20:48تیرا رب تو تجھے دیکھ رہا ہے
20:49آئے
20:49آئے
20:50اچھا یہ ہے وہ انداز
20:51شیخ ابنِ خلدون نے
20:54بڑی خوبصورت بات کی ہے
20:55اپنی ذات کو
20:57اللہ کے سپرد کر دینا
20:59اللہ کے سپرد کر دینا
21:01سپردگی
21:02بھئی اس کا نام ہے تصوف
21:03اس کا اسی پر زور دیا
21:06اولیاء اکرام نے
21:07صوفیہ نے
21:07اتکیہ نے
21:08اسفیہ نے
21:08اور وہ یہ ہے
21:10ازہد فی الدنیا
21:12یحبوک اللہ
21:13وزہد فی ما فی عید الناس
21:16یحبوک الناس
21:17دنیا کے اندر
21:18بے رغبت ہو جاؤ
21:19اللہ کے ساتھ
21:20رغبت رکھو
21:21رب ذوالجلال
21:22تمہارے اندر
21:22خود رغبت رکھنا
21:23شروع کر دینا
21:24وزہد فی ما فی عید الناس
21:27لوگوں کے ساتھ
21:28رغبت نہیں
21:29یہ رغبت وہ ہے
21:31جو ان کے ساتھ
21:32محبت کر کے
21:32انہیں ایک قریب کرنا
21:33سبحان اللہ
21:34یہ رغبت ہے
21:35مگر ان سے
21:36کسی چیز کی طلب
21:37چاہت
21:38کہ یہ مجھے کچھ دیں
21:40بھئی وہ تو
21:41خود اللہ کے موت آجائے
21:42تجھے کیا دیں
21:42اس بات کو
21:44صرف اللہ جلال
21:45جلال سے رابطہ
21:46ازہد فی الدنیا
21:48جرح القلب
21:48والجسد
21:49والرغبت
21:50فی الدنیا
21:50تکسر الحم
21:52والحسن
21:52جب بندہ
21:54بے رغبت ہو کر
21:55آگے بڑھتا ہے
21:56تو بندے کی
21:57کیفیتوں کے اندر
21:58ان جلال پیدا ہوتا ہے
21:59اور رضو فرماتا ہے
22:00کہ
22:01جتنے
22:09اولیاء اللہ ہیں
22:10کیا ان کے
22:10کوئی بڑے بڑے
22:11کارخانے بھی تھے
22:12کیا ان کے
22:13بڑے بڑی
22:13مار کیٹے تھیں
22:15نہیں
22:15یہ سادہ لوگ تھے
22:17مگر
22:17رزق ان کے پیچھے
22:18چلتا تھا
22:19آج ہم لوگ
22:21رزق کے پیچھے
22:22جاتے ہیں
22:23اور یہ وہ
22:24لوگ تھے
22:25رزق ان کی
22:25تلاش کرتا تھا
22:27وہ صبح
22:27شام
22:28صبح
22:28شام
22:28ان کے پاس
22:29ڈھیر لگے ہوتے
22:30مگر جیسے کچھ آتا
22:31اسی طرح سے
22:32یہ تقسیم بھی
22:33کر دیا کرتے ہیں
22:34بہت شکریہ
22:35سبان اللہ
22:35بڑے صغیر کے اندر
22:36بڑے صغیر کے اندر
22:38محمد بن قاسم آئے ملتان
22:40محمود غزمی نے
22:41حملہ کیا
22:42ہندوستان پر
22:43اب یہاں پر
22:44یہ وہ
22:45قربتیں تھی
22:45تاجر
22:46جیسا
22:47انڈر صاحب نے
22:47ذکر کیا
22:48وہ تجار آئے
22:49تاجر آئے
22:50اور انہوں نے
22:51اپنا آپ پیش کیا
22:52انہوں نے
22:53اپنا آپ پیش کیا
22:54کہ ہمیں
22:55جو صلاحیت
22:56ربز الجلال نے
22:57دی ہے
22:58وہ تمہاری خدمت
22:59کے لیے دی ہے
22:59لوگ کشاں کشاں
23:01آتے چلے گئے
23:01اب یہاں پر
23:02داتا گنج بخش علیہ
23:04حجویری
23:04آپ جلوہ
23:06فگنو بے
23:06آپ کا
23:08خاجہ مہین الدین
23:09چشتی حجمیری
23:09خاجہ نظام الدین
23:10چشتی حجمیری
23:11بابا فرید دین
23:12گنج شکر
23:13حضر شاہ رکن عالم
23:14شاہ صدر الدین
23:16یہ جتنے لوگ آئے
23:17انہوں نے آ کر
23:19اپنے آپ کو
23:20پیش کیا
23:20اپنا کردار پیش کیا
23:22بہت اچھا
23:22اور اس کردار
23:23کے پیش نظر
23:24وہ لوگ
23:25بلکل
23:25پروانے کی طرح
23:26جیسے شما کے گرد آتے ہیں
23:28وہ چلتے چلے
23:28بہت شکریہ
23:29جزاک اللہ
23:30بہت خوبصورتی سے
23:30آپ نے سرحد سے
23:31بیان فرما دیا
23:32جن نفوسِ
23:34قدسیہ کے
23:35جناب مظہر فرید صاحب
23:37نے اسماں گنوائے
23:38ان لوگوں نے
23:39مل کر
23:39ہند کے خطے پہ
23:40جو اثرات مرتب کی ہیں
23:41بالخصوص
23:42برسگیر سب کانٹیننٹ پر
23:44اس کا کچھ اشاری
23:45آپ انایت فرمائیے
23:47جی
23:48سبدر بھائی دیکھئے
23:51یہ جو علاقہ
23:52ہمارا
23:53یہ ہے
23:53جو
23:55کہ
23:56ہزاروں خداوں کی
23:57عبادت کی
23:58اماجگات
23:58اور
23:59یہ ممکن نہیں تھا
24:01کہ لوگوں کو یہ سمجھایا جائے
24:02کہ یہ سارے خدا باطن ہیں
24:04اور ایک وحدہ
24:05حول آشری خدا ہے
24:06ان حضرات نے
24:08ان کی فکر کو درست کر کیے
24:11ایسے ایسے
24:13ان کے معاملات کے
24:14جو احوال ہیں
24:16ان کی کیفیات ہیں
24:16ان کو درست کیا
24:17کہ
24:18یہ اس بات کو
24:19ماننے پر مجبور ہو گئے
24:20کہ واقعا
24:21اللہ وحدہ لا شریک ہے
24:22اور اس کے لیے جو انہوں نے
24:23اسلوب اپنایا
24:24وہ
24:24ادعو الہ سبیل ربکا بالحکمتی
24:26والموعیزت الحسنتی
24:28وجادلہم باللتہی احسن
24:30یہ اسلوب تھا
24:31کہ حکمت کے ساتھ
24:32اور مجادلہ حسنہ کے ساتھ
24:34اور
24:35اپنے کردار اور اخلاق کے ساتھ
24:37ان لوگوں کو
24:38اسلام کی
24:38دعوت اور تبلیغ
24:40بلکو ٹھیک ہے
24:41اب آپ دیکھئے
24:42کہ
24:42ہم
24:43جو تقریر کے ساتھ
24:44اور تحریر کے ساتھ
24:46جو
24:46اپنا مدعا حاصل نہیں کر پاتے
24:48انہوں نے
24:49اپنے اخلاق اور کردار کے ساتھ
24:52لاکھوں لوگوں کو
24:53اسلام کی طرف راغب کیا
24:55اور وہ اسلام قبول کرتے گئے
24:56اچھا
24:57اس میں بنیادی چیزیں کیا تھیں
24:58اس میں یہاں
24:59ایک
24:59عدم مساوات کا سلسلہ تھا
25:05فرمایا ہے کہ
25:05انسان کی فطرت ہے
25:09جس پر اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا
25:10اور وہ کیا ہے
25:11وہ فطرت سلیمہ ہے
25:12حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
25:14انسان فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے
25:23اب آگے اس کا محول ہے
25:25اس کا کردار ہے
25:26اس کا اردگرد ہے
25:27جو اس کو مجوسی بنا دیتا ہے
25:28یا یہودی بنا دیتا ہے
25:30یا اس کے اردگرد کے محول کو
25:32اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے
25:34لیکن جیسے ہی
25:36ان کی فطرت کو
25:37اپیل کرنے والی کوئی بات
25:38ان تک پہنچتی ہے
25:39وہ فوراں اس کو خبول کرتے ہیں
25:40بلکل ٹھیک
25:41اب جب یہاں
25:42اس ہندوستان کے اندر
25:43ان بزرگوں نے کیا کیا
25:44انہوں نے اسی فطرت سلیمہ کو
25:46اصل میں ٹچ کیا
25:47ترگٹ کیا
25:48اور وہ باتیں کی
25:49جو اصل میں
25:50ان کے دل کے اندر گھر کرتی چلی گئے
25:52اور بات یہ سمجھائی
25:53کہ یار تم
25:54اللہ کے بندے ہو کر
25:56اتنے زیادہ
25:58خداوں کو کیسے
25:59اپنا خدا سمجھ سکتے ہو
26:01اور پھر
26:01یہ جو مخلوق ہیں
26:02جو خود محتاج ہیں
26:04تم ان سے اپنی
26:05کیسے ضروریات کو
26:06پورا کروا سکتے ہو
26:07اور پھر تم ان کے سامنے
26:08کیسے جھک سکتے ہو
26:09جیسے جیسے لوگوں
26:10اس کو سمجھ آتی گئی
26:11لوگ اسلام کے قریب ہوتے چلے گئے
26:12اور پھر
26:13جو نادار لوگ تھے
26:14جن کا کوئی
26:15جو ہے وہ پرسان حال نہیں تھا
26:17ان بزرگوں نے ان کو قریب کیا
26:19لنگر خائنے قائم کیے
26:20لوگوں کو کھانا کھلایا
26:21آپ یہ دیکھئے
26:22کہ حضرت ابو الحسن خرقانی
26:23رحمت اللہ علیہ کی
26:24خانقہ پر آج بھی
26:25یہ لفظ لکھا ہوا ہے
26:26کہ جو شخص آتا ہے
26:27اس سے اس کا مذہب نہ پوچھو
26:29اس کو کھانا بھی دو
26:30اس کو رہائش بھی دو
26:31اب یہ لوگ قریب آئے
26:33تو پھر وہ قریب ہی ہوتے چلے گئے
26:35اور پھر اسلام
26:36ان کے دلوں کے اندر
26:37گھرٹ کرتا چلا گیا
26:38اور پھر وہ
26:39ہندو
26:39اور دیگر جتنے بھی
26:40مذہبت ان کو چھوڑ کر
26:42حق کو قبول کرتے گئے
26:43اور پھر صحیح معنوں میں
26:44وہ خود اللہ کے ولی بنے
26:46اور پھر آگے جو ہے
26:46تبلیغ کرنے والے بن گئے
26:47کیا کہنے ہیں
26:48سبحان اللہ
26:49سبحان اللہ
26:49ایک مختصر سے وقفہ ناظرین
26:51خوش آمدید ناظرین
26:52آپ کا ایک دفعہ پھر خیر مقدم ہے
26:53پروگرام
26:54تبلیغ اسلام اور بزرگان دین
26:56چوتھا پروگرام
26:57آج آپ داتا کی نگری لاہور سے
26:58ملاحظہ کر رہے ہیں
26:59پروگرام کے آخری حصے میں
27:01اختتامی گھڑیوں میں
27:02میں جناب ڈاکٹر مذر فرید صاحب سے
27:04گزارش کروں گا
27:05ڈاکٹر صاحب جتنا بھی وقت ہمیں ملا
27:07اور جو گفتگو ہم کر پائے
27:09اللہ قبول فرمائے
27:10اس کا خلاصہ
27:11اور اس کی سمری
27:13انعائیت فرمائیں
27:14آج اس پروگرام میں
27:15جو کچھ ہم نے ارز کیا
27:16اسم آج
27:17سب سے زیادہ ضرورت یہ ہے
27:19کہ اسلام کو اس کی
27:20اپنی اصلی شکل میں پیش کیا جائے
27:22بلکل ٹھیک ہے
27:23کیونکہ یہ بہت بڑا تصوف
27:25آج یہی ہے
27:26کہ آج اسلام کو
27:28اس کی اصل شکل میں پیش کیا جائے
27:31خان کاہی نظام کے ساتھ
27:35تعلیم کو ببستہ کر دیا جائے
27:36بہت اچھا
27:37اور تعلیم کے ساتھ
27:39خان کاہی نظام کی اثرات کو
27:40لائے جائے
27:41اور اس میں یہ جو
27:43جس کا تذکرہ
27:46حضور علیہ السلام
27:47نے فرمایا
27:48جس بندے کے اندر
27:54تین چیزیں پائی جاتی ہیں
27:55اسے ایمان کا لطف اور مزہ آجاتا ہے
27:58سب سے زیادہ پیار
28:04اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ
28:06بلکل ٹھیک
28:07کسی بھی شخص سے پیار
28:14اس لیے نہ کرے
28:16کہ یہ مجھے کچھ دے گا
28:19میرے ساتھ پیار کرے گا
28:20کبھی یہ کام آئے گا
28:22اس لیے کرے کہ
28:23میرا رب راضی ہو جاتا
28:24اللہ اکبر
28:25نمبر تین
28:26وَأَنْ يَكْرَحَا أَنْ يَعُودَا
28:28إِلَى الْكُفْرِكَمَا يَكْرَحُ
28:29اَنْ يَكْسَوَ فِي النَّارِ
28:32گناہ چھوڑ کر
28:33نیکی کی طرف ہی آیا ہے
28:34اب نیکی سے پلٹ کر
28:36گناہ کی طرف جانا
28:37اسے یوں محسوس ہو
28:39جیسے اسے آگ میں جھونکا جا رہا ہے
28:41یہ تین کیفیتیں پیدا ہو جائیں
28:44سبحان اللہ
28:47سبحان اللہ
28:48بہت ہی خوبصورت کیفیات کا
28:50ڈاک صاحب نے اظہار فرما دیا
28:51تو آپ کیا فرماتے ہیں
28:54آج کے اس پروگرام کے
28:56خلاصہ کلام کے طور پر
28:57ہمیں ابھی چند گھڑیاں اجازت دیتی ہیں
28:59آپ ارشاد فرمائیے
29:00سب سے اہم چیز
29:02ہمیں ان بزرگان دین کی تعلیم سے نظر آتی ہے
29:04وہ اخلاص
29:05درست
29:06ڈاک صاحب کی گفتگو سے
29:07جو چیزیں آیا ہو رہی تھیں
29:09کہ اخلاص
29:11جو ہے وہ ان بزرگوں کا آپ سمجھیں
29:13کہ بڑا ہتھیار تھا
29:16جو ان کے پاس
29:16لوگوں کو اپنے قریب کرنے والا تھا
29:18اور یہ اس لیے
29:20لوگوں کو
29:21تبلیغ نہیں کرتے تھے
29:23کہ لوگ ان کے قریب ہو جائیں
29:24یہ اس لیے کرتے تھے
29:25کہ اللہ راضی ہو جائے
29:26اور اس وجہ سے
29:27اللہ تبارک و تعالی نے
29:28ان کو
29:29سرخرو بھی فرمایا
29:31اور کی اس وجہ سے
29:32اللہ تبارک و تعالی نے ان کو
29:33عزت بھی عطا فرمائے
29:34میں حضرت فیض عالم
29:36حضور داتا گنج بکش رحمت اللہ علیہ
29:38نے ایک واقعہ کوٹ کیا ہے
29:40حضرت سلمان فارسی کے مرید ہیں
29:42حضرت ابو اسلیم رائی
29:44رحمت اللہ علیہ
29:46ان کا ایک واقعہ
29:47آپ نے ذکر کیا ہے
29:47کہ ایک شخص
29:48ڈونڈتا ڈونڈتا
29:49ان کی خدمت میں گیا
29:50تو کیا دیکھتا ہے
29:51کہ وہ
29:53بکریاں چرہ رہے ہیں
29:54بکریاں چرہتے تھے
29:56اور بکریاں چرہ رہے ہیں
29:57لیکن
29:57بکریاں خود چرہ رہی ہیں
29:59اور بیڑیاں ان کی حفاظت کر رہا ہیں
30:01اور وہ
30:01اپنے عبادت میں مصروف ہیں
30:03وہ حیران ہوئے
30:04اور ان سے پوچھا
30:05کہ جناب
30:06یہ کب سے بکریوں
30:07اور بیڑیاں
30:08کوئی صلاح کب سے ہوئی ہے
30:09کہنے لگے
30:10کہ جب بندے کی
30:11اللہ سے صلاح ہو گئی ہے
30:12اس وقت کی بیڑیوں کی
30:13بیڑیاں کی بیڑیوں سے صلاح ہو گئی ہے
30:15اور بکریوں سے صلاح ہو گئی ہے
30:17مطلب یہ ہے
30:17کہ اگلی بندے کو
30:18یہ تبلیغ کی
30:19کہ ہم اگر
30:20اللہ کے ساتھ
30:20اپنے تعلق کو
30:21مضبوط بنائیں گے
30:22تو یہ مخلوق بھی
30:23ہمارے تابع ہو جائے گی
30:24پھر فرماتے ہیں
30:25کہ انہوں نے
30:25ایک لکڑی کا پیالہ آگے کیا
30:27تو ایک پتھر سے
30:28دودھ کا
30:29ایک فوارہ نکلا
30:30اور ایک شہد کا فوارہ نکلا
30:32انہوں نے
30:32ان کو بھی پلایا
30:33خود بھی پیا
30:34کہا کہ جناب
30:35یہ مقام آپ کو کیسے ملا
30:36انہوں نے کہا
30:37یہ مقام مجھے
30:38نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
30:39کی اتباع کی وجہ سے ملا
30:40تو آپ دیکھئے
30:42کہ انہوں نے
30:42یہ دونوں کرامتے ہیں
30:43بجائے اس کے
30:44کہ وہ اس کو
30:45اپنے طرف منصوب کریں
30:46انہوں نے اس کو
30:47اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم
30:48کی اتباع اور اخلاص کی طرف منصوب کیا
30:50تو یہ آج
30:52ضرورت اس بات کی ہے
30:53کہ بزرگان دین کی
30:54ان چیزوں کو
30:55ہم سامنے رکھیں
30:55اور اپنے آپ کے اندر
30:56اخلاص پیدا کریں
30:57اور بزرگوں نے
30:59جس خلوص کے ساتھ
31:00محبت کے ساتھ
31:01تبلیغ کی
31:01اور لوگوں کو
31:02دین کا درست دیا
31:03آج ہم ان کے اس رستے کو
31:05اپنانے کی کوشش کریں
31:06بہترین
31:07سبحان اللہ
31:08سبحان اللہ
31:09آج کے پروگرام کے
31:11خلاصہ
31:12ایک کلام
31:12اپنے دونوں
31:13معزز سکولر سے
31:14آپ نے سنے
31:15ڈاکس اب ابھی فرما رہے تھے
31:16کہ جب سے
31:18اللہ سے سولہ ہوئے
31:20جس اللہ والے کا ذکر کیا
31:22اپنے حضرت رائی علیہ رحمہ کا
31:24تو اسی طرح
31:25ایک بزرگ
31:25اکثر بازار میں جایا کرتے تھے
31:31کہ راستے سے واصل کرنے کی کوشش کرتے
31:33تو لوگ پوچھتے
31:33کیا کر رہے ہیں
31:34تو وہ جواب دیتے
31:35کہ
31:36اللہ
31:37کی سولہ کروانوں
31:38بندوں سے
31:39بندوں کو کہہ رہا ہوں
31:39کہ اللہ سے سولہ کر لیں
31:40موقع ہے
31:41تو دیکھئے
31:42سولہ کی طرف مائل نہیں ہوتے
31:43کچھ عرصے بعد
31:44انہی بزرگ کو
31:45قبرستان میں پایا گیا
31:47اور وہ قبرستان والوں
31:49کو مخاطب کر کے
31:49کچھ کہہ رہے تھے
31:50پوچھنے والے نے
31:51پھر سوال کیا
31:51کہ یہاں کیا کر رہے ہیں
31:53کہا سولہ کرواروں
31:54کہا آپ بزار میں بھی
31:55سولہ کرواتے تھے
31:56یہاں بھی سولہ کرواتے ہیں
31:57وہ کس قسم کی سولہ تھی
31:58یہ کس قسم کی سولہ ہے
32:00بڑا تاریخی جملہ
32:01انہوں نے رشاد فرمایا تھا
32:02کہا اس وقت
32:03میں سولہ کرواتا تھا
32:04وہ کرنے کے لیے تیار تھے
32:06یہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے
32:07اب جب میں سولہ کی بات کرتا ہوں
32:09تو یہ کرنے کے لیے
32:10تیار ہیں
32:11وہ کرنے کے لیے
32:12تیار نہیں ہیں
32:13کیونکہ وقت گزر چکا ہے
32:14اس کا نظام اس کی مشیعت ایسے ہی ہے
32:16کہ وہ ایک وقت تک صلح کی اجازت دیتا ہے
32:18اس کے بعد وہ منظر نامہ
32:20اپنی قدرت سے تبدیل فرما دیتا ہے
32:22تو میں ایزے تعالیٰ بیلم
32:24اور ایک سوڈن کے طور پر یہ سمجھاؤں
32:26کہ جب وقت ہے تو آئیے صلح کرنے کی کوشش کریں
32:28اللہ رب العزت کی رحمت سے
32:30اس کی رضا سے اس کی خوشنودی سے
32:32یہی لمحہ غنیمت ہے
32:33اور جب یہ گزر جائے گا
32:35تو پھر صلح کا منظر نامہ بھی
32:37تبدیل ہو جائے گا
32:38اللہ کرے کہ ہمیں یہیں
32:40صلح کی دولت نصیب ہو جائے
32:41بہت شکر گزار میں
32:43جنابِ ڈاکٹر مذر فرید صاحب آپ کا
32:45آپ کی تشریف آوری کا
32:46جنابِ ڈاکٹر ریفان اللہ صاحب آپ کا
32:48اور جنابِ کاری تاریخ مسود صاحب
32:50ابھی ایک منکود حضور غوث پاک کی
32:52آپ سے شامل کریں گے
32:53چار مصرے ایک تازہ تازہ
32:55ہندوستان کے شہر ناغپور سے
32:57بہت اچھا اور یونیک لکھنے والے
33:00ہمارے ایک دوست ہیں
33:00عظر حسین صاحب ناغپوری
33:02ان کے چار مصرے
33:03حضور غوث پاک کی خدمت پر
33:05وہ لکھتے ہیں
33:05کہ ہم ان کے سامنے
33:07بلکل حکیر ہیں بابا
33:09ہم ان کے سامنے
33:10بلکل حکیر ہیں بابا
33:12جنابِ غوث تو پیروں کے پیر ہیں بابا
33:15جنابِ غوث تو پیروں کے پیر ہیں بابا
33:18تمہارے شہر کے
33:19ادنا گدا سے ہلکے ہیں
33:21تمہارے شہر کے
33:23He has him our city
33:26We have to get
33:26We have to get
33:29Then go ahead
33:30We have to get
33:31To be our city
33:35We have to get
33:37The city
33:38We have to get
33:39We have to get
33:41So
33:41He has to get
33:42We have to get
33:45And we have to
33:46We have to
33:47Use of the
33:48This is
33:49The
33:50The
33:51The
33:51The
33:53we have hadiyah and aqidah pishkirtay
33:55tiri shan
33:58sab say
33:59juda
34:03ghaas
34:05ayazam
34:07tiri shan
34:10sab say
34:13juda
34:15ghaas
34:17ayazam
34:19na pohuch
34:21tujhe
34:23aliyah
34:25ghaas
34:27ayazam
34:29tiri
34:31shan
34:33sab say
34:35juda
34:37ghaas
34:39ayazam
34:45jamaal
34:47e
34:49tiri shan
34:51tiri shan
34:53ghaas
34:55ayazam
34:57jalal
34:59jalal
35:01aliy
35:05tiri shan
35:15tiri shan
35:17yalal
35:27yalal
35:29yalal
35:31yalal
35:33yalal
35:35yalal
35:45तेरे दर से तेरे गदागा से आजम
35:56ना क्यों हल हो मुश्किल से मुश्किल मसाइल
36:11के है बने मुश्किल कुशागा से आजम
36:22नसीराज आया है बनकर सवाली
36:39इसे भी मिले भीक या गौसे आजम तेरी शान
36:53सबसे जुदा गौसे आजम न पहुंचे तुझे आलिया गौसे आजम तेरी शान
37:09झाली आजम पहुंचे मुश्किल
Comments